حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 249
حیات احمد ۲۴۹ جلد پنجم حصہ اول پر چلایا اور نور علم عطا کیا تو ہی ہے کہ جس نے ہم گمراہوں کو ضلالت کے جنگل میں بھٹکتے پا کر پھر ایک بادی عطا کیا۔اس پر تیرا سلام ! اور تیرے فرشتوں کا سلام !! تو ہی ہے کہ جب جسم کی پرورش کا وقت تھا تو ماں اور باپ کے سپرد کیا تھا اور اب جب روح کی پرورش کا وقت آیا تو ایک روحانی باپ کے سپرد کیا۔ہمارا جسمانی باپ تو ہمیں ڈرا کر دھمکا کر سکھاتا تھا مارتا بھی تھا مگر یہ تو دلا سے سے سمجھاتا ہے۔کوئی ایسی جھڑ کی نہیں دیتا جس سے کہ دل ٹوٹ جائے۔لڑکے ماں باپ کی ماروں سے ڈرکر بھاگ جاتے ہیں، گھر چھوڑ دیتے ہیں مگر اس کا رحم ، اس کی شفقت، اس کا خُلق تو بھاگے ہوؤں کو موڑ لاتا ہے۔چنانچہ اُس کی شان میں فرمایا۔فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَو كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ۔۔۔الآية لا توى ہے کہ جس نے سخت آندھیوں میں ہمارے ایمان کے درخت کو اکھڑنے سے بچائے رکھا۔پس اے مولیٰ ! جب تیرا رحم ، جب تیرا کرم، اس طرح ہماری دستگیری کرتا رہا تو کیا ہم آئندہ کے لئے تجھ سے مایوس ہو جائیں۔اگر ہم ایسا کریں تو گویا سخت کافر ہیں۔تو ہم پر ماں سے زیادہ مہربان ہے۔ہم تیرے کلام پاک کی برکت سے تجھ سے تیری راہوں میں استقامت طلب کرتے ہیں۔تو ہمارے قدموں کو لغزشوں سے محفوظ رکھے ! ہم کو اپنے منعم علیہم بندوں میں سے کر دے! ہمارا خاتمہ بالخیر کر! اور ہمیں ہلاکت کی راہوں سے بچا! اے علیم ! خبیر ! اے سمیع ! ہماری دعاؤں کو سن! اور نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی اولاد اور ازواج اور اہلِ بیت اور اُن کے دین کے زندہ کرنے والوں پر اپنی برکت اور رحمت اور سلام نازل فرما!!! آمین ! آمین !! آمین !!! (احکم مورخه ۲۹ رنومبر ۱۸۹۸ء صفحه ۹ کالم نمبر۲ تا صفحه ۱ کالم نمبر) غرض جماعت مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے راستہ کو صاف کرتی ہوئی ترقی کرنے لگی اور ایک تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی۔اور ہندوستان سے جو احباب جاتے تھے ان کے لئے خاص ا آل عمران: ۱۶۰