حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 248 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 248

حیات احمد ۲۴۸ جلد پنجم حصہ اول جس جنت کا نمونہ اُس نے اہل دنیا کو اسی زندگی میں دکھا دیا ہے اس کے نونہال اپنی مہک سے سلیم دماغوں کو مہکار ہے ہیں۔وہ دن ہماری نظروں سے دور نہیں ہوئے ہیں جب کہ کل پنجاب (اس جماعت اور حسنِ ظن والوں کو نکال کر ) اس امر پر فیصلہ کر چکی تھی کہ یہ شخص اب ذلیل ہو گیا۔اور اس کے حواری اس سے برگشتہ ہو جائیں گے اور اس نازک حالت میں اس شیر خدا نے للکارتی آواز میں اپنی جماعت کو نوٹس دیا تھا کہ جو میرے ساتھ پر خار دشت اور خطرناک جنگل طے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے وہ مجھ سے الگ ہو جاوے۔میرا خدا میرے لئے کافی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک پیشگوئی کی تھی جن کا سرنامہ تھا کہ ” ہمارا انجام کیا ہوگا اور پھر صداقت کو ایک بیج کے ساتھ نظیر دے کر ثابت کیا تھا یہ جماعت پھولے گی اور پھلے گی اور پھیلے گی سو آج ہم اس کا یہ اشتہار پڑھ کر جو مورخہ ۷/ جون ۱۸۹۸ء کو نکلا ہے جس میں لکھا ہے کہ عنقریب اس جماعت کی تعداد لاکھوں تک پہنچے گی۔اُس خدا کا شکر کرتے ہیں جس نے ان سب باتوں کو پورا کر دکھایا اور وہ حصہ پیشنگوئیوں کا جو گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا پورا ہو گیا۔سچ ہے لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ۔سوجس نے آج تک اپنے کمال فضل سے ہمارے قدموں کو جمائے رکھا ہم اُسی سے بصد بجز و نیاز آئندہ کی استقامت کی التجا کرتے ہیں کہ اے ہمارے ملجا وماً وا! اے ہمارے دکھوں اور دردوں کی دوا ! اے ہماری کمزوریوں کی پناہ ! اے ہماری بگڑی کے بنانے والے ! اے ہماری مرده روحوں پر روح القدس کا آب حیات چھڑ کنے والے ! تو ہی ہے جس نے ہمیں نیست سے ہست کیا! تو ہی ہے کہ ہمیں رحم مادر میں خوراک پہنچاتا تھا! تو ہی ہے کہ جب ہم حرکت نہیں کر سکتے تھے تو ایک مادر مہربان عطا کی جو اٹھا کر دودھ پلاتی تھی۔تو ہی ہے کہ جس نے پھر قوت اور طاقت عنایت کر کے اس لائق بنایا کہ ہم خود ماں باپ سے چھین کر روٹی کھا لیتے تھے۔تو ہی ہے کہ جس نے ہمیں پھر تہذیب اور اخلاق کی راہ