حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 233 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 233

حیات احمد ۲۳۳ ز دست فنا در دمے سبزہ زار بروید بگور حسین , جلد پنجم حصہ اول وسیم کنید اجتناب از نواہی حق اخلاص توبه ز فعل ذمیم ذکر دار نیکو بجا آورید رہائی خدا تا دهد از جــحيــــم شود بند دست و زمان از عمل چو ناگہ بسر تاخت آرد غنیم بقیہ حاشیہ کے ماتحت کئی محکمے تھے ) آپ ان میں سے کسی پر خلیفہ نور الدین صاحب کو بھی لگا دیں۔پھر مجھے مولوی صاحب نے عربی فارسی کا تر جمان مقرر فرمایا۔قحط واموات ان دنوں کشمیر میں ایک سال سخت قحط اور اس کے بعد ہیضہ پڑا۔قحط کے باعث غلہ اس قدر کم ہو گیا کہ کشمیر میں ایک روپیہ کے ایک سیر چاول ملتے تھے۔مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب نے پنجاب سے غلہ منگا کر ایک روپیہ کا سولہ سیر عوام کی بہبودی کیلئے سرکاری خرچ پر بکوایا۔حضرت مولوی صاحب نے ان دنوں میں میرے سپرد یہ ڈیوٹی کی کہ شہر سری نگر میں پھر کر اموات ومریضوں کی رپورٹ کرتا رہوں۔اور لوگوں کو صفائی کی ہدایت کروں۔میں ہر محلہ میں جاتا اور رپورٹ تیار کرتا چونکہ مجھے وبا زدہ علاقہ میں جانا ہوتا تھا اس لئے مہاراجہ صاحب کا حکم تھا کہ محلات شاہی واقعہ لال منڈی میں نہ جاؤں۔میں اوپر اوپر کے راستہ حضرت مولوی صاحب کے ہاں پہنچ جاتا تھا۔اور مہاراجہ صاحب جب مجھے اُدھر جاتے دیکھ لیتے تو حضرت مولوی صاحب سے کہتے کہ دیکھئے مولوی صاحب وہ آپ کا خلیفہ مجھ سے چوری چھپ چھپ کر جا رہا ہے۔جب سری نگر میں وبا وغیرہ سے آرام ہوگیا تو میں پھر بطور ترجمان کام کرنے لگا۔میری یہ ملازمت حضرت مولوی صاحب کے ریاست سے واپس چلے جانے تک رہی ، اور حضور کے جاتے ہی ختم ہوگئی بعد میں اللہ تعالیٰ نے میرے لئے روزی کے اور سامان پیدا کر دیئے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ بچپن میں کنوئیں میں گرنے سے آپ کی مشابہت حضرت یوسف علیہ السلام سے ہے ان کی طرح سے خدا آپ کی روزی کے سامان غیب سے کرے گا۔اس ملازمت کے بعد مجھے سرکاری دفاتر کی ضروریات سٹیشنری وغیرہ کے مہیا کرنے کے ٹھیکے مل جاتے رہے۔مولوی اللہ دتا صاحب مرحوم میرے بہنوئی میرے شریک کار تھے۔کاروبار زیادہ تر انہیں کے ہاتھ میں تھا اور دکان پر وہی بیٹھا کرتے تھے۔میں اکثر آزاد ہی رہا اور اکثر قادیان آتا جاتا رہتا پھر بھی خدا تعالیٰ نے اس کاروبار میں اتنی برکت دی کہ میں نے ہزاروں روپیہ کمایا ، اور ہزاروں روپیہ لوگوں نے مجھ سے قرض لیا ( تقریباً دس ہزار کے قریب ) جو انہوں نے بعد میں واپس ادا نہیں کیا۔مولوی اللہ دتا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جو غالباً ۱۹۱۶ ء یا ۱۹۱۷ء میں واقع ہوئی کوئی کاروبار نہیں کیا۔