حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 234
حیات احمد ۲۳۴ جلد پنجم حصہ اول نباشد که جان رخست از تن شبود بجامی که باشد پلید و و ملیم کسانیکه مصداق کشف صریح شوند از قضائے خدائے حکیم از انجمله سید فصیلت علی ست که در هجر او شد دل ما دو نیم دریغا که از زمره دوستاں بعدا گشت آں پاک باز و حلیم بقیہ حاشیہ۔حضرت مسیح ناصری کی قبر کی دریافت جن دنوں میں شہر کی گشت کی ڈیوٹی پر تھا۔تو میں جہاں جاتا قبور کے متعلق وہاں کے لوگوں اور مجاوروں سے سوال کرتا۔اور حالات معلوم کرتا اور بعض اوقات ان کا ذکر حضرت مولانا نورالدین صاحب سے بھی کرتا۔ایک دفعہ میں محلہ خانیار سری نگر سے گزر رہا تھا کہ ایک قبر پر میں نے ایک بوڑھے اور بڑھیا کو بیٹھے دیکھا ، میں نے ان سے پوچھا یہ کس کی قبر ہے تو انہوں نے بتلایا کہ ”نبی صاحب“ کی ہے۔اور یہ قبر یوز آسف شہزادہ نبی اور پیغمبر صاحب کی قبر مشہور تھی۔میں نے کہا یہاں نبی کہاں سے آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ نبی دور سے آیا تھا اور کئی سو سال قبل آیا تھا۔نیز انہوں نے بتایا کہ اصل قبر نیچے ہے اس میں ایک سوراخ تھا۔جس سے خوشبو آیا کرتی تھی لیکن ایک سیلاب کا پانی آنے کے بعد یہ خوشبو بند ہو گئی۔میں نے یہ تذکرہ بھی حضرت مولوی صاحب سے کیا۔اس واقعہ کو ایک عرصہ گزر گیا اور جب مولوی صاحب ملازمت چھوڑ کر قادیان تشریف لے گئے تو حضرت مسیح موعود کی مجلس میں جس میں حضرت مولوی صاحب بھی موجود تھے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے وَ أَوَيْنَهُمَا إِلى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِين لے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کسی ایسے مقام کی طرف گئے۔جیسے کہ کشمیر ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے خانیار کی قبر والے واقعہ کے متعلق میری روایت بیان کی۔حضور نے مجھے بلایا اور اس کے متعلق مجھے تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ میں نے مزید تحقیق کر کے اور کشمیر میں پھر کر ۵۶۰ علماء سے اس قبر کے متعلق دستخط کروا کر حضور کی خدمت میں پیش کئے جسے حضور نے بہت پسند فرمایا۔حضرت خلیفہ اول کا ریاست کشمیر سے باہر تشریف لے جانا مہاراجہ پرتاب سنگھ جی کی عہد حکومت میں مہاراجہ صاحب اور ان کے بھائیوں میں ناچاقی رہا کرتی تھی۔حضرت مولانا نورالدین کے متعلق بعض ہندوؤں نے مہاراجہ صاحب کے کان بھرے کہ مولوی صاحب کی سازباز مہاراجہ صاحب کے چھوٹے بھائی راجہ امر سنگھ صاحب سے ہے۔اس پر مہاراجہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب کو ریاست سے چلے جانے کا حکم دیا اور مولوی صاحب تشریف لے گئے۔حضرت مولوی صاحب نے اس ل المؤمنون :۵۱