حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 232 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 232

حیات احمد ۲۳۲ جلد پنجم حصہ اول بكشف صریح و مصفا به من خبر داد رب قدیر و علیم که بعضی از یاران بسال دگر نه گردند در جلسہ کا سہیم که گردند نخچیر صیاد مرگ به پوشند از ما رخ اندر گلیم جواں قوی در خاک گور بہ روزے شود هیچوں عظیم رمیم دست بقیہ حاشیہ۔ایک ماہ بعد اس مولوی صاحب کا جواب آیا میں نے دعا کی تھی خدا کی طرف سے جواب ملا ہے ” مرزا صاحب کا فر“ میں بھدرواہ گیا ہوا تھا جب جموں واپس آیا تو مجھے یہ خط دکھلایا گیا۔میں نے کہا یہ الہام کرنے والا خدا نعوذ باللہ بڑا ڈرپوک خدا ہے جو مرزا صاحب کو کا فر بھی کہتا ہے اور ساتھ صاحب بھی پکارتا ہے ایسے ڈرپوک خدا کا الہام قابل اعتبار نہیں۔میرا بیعت کرنا اس کے کچھ عرصہ بعد مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی سے مناظرہ کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی سے واپس قادیان آئے تو حضور نے اپنے دوستوں کو قادیان بلایا۔میں ان دنوں ایک کام کیلئے لاہور آیا ہوا تھا۔اور لاہور سے واپس جموں جا رہا تھا کہ سیالکوٹ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے سنا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے تمام دوستوں کو قادیان بلایا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں بھی اسی لئے قادیان جارہا ہوں۔مولوی صاحب نے مجھے بھی ساتھ لیا۔اور ہم سب قادیان چلے گئے۔قادیان پہنچ کر میں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کر لی۔مجھ سے پہلے جموں میں حضرت خلیفہ اول کے سوا کسی نے بیعت نہیں کی۔بعد میں میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے احمدی ہوئے۔میرے ساتھ شیخ جان محمد صاحب وزیر آبادی اور ایک مولوی صاحب ( جو تحریر کا عکس ہو بہو بنا لیتے تھے ) نے بیعت کی احمدیت کا چرچا شروع ہونے پر جموں میں ہماری کافی مخالفت ہوئی۔گو حضرت مولانا نورالدین صاحب کے باعث باقی جگہوں سے یہ مخالفت کم ہوئی۔ملازمت کرنا میں ایک دفعہ جموں سے پیدل براہ گجرات کشمیر گیا۔راستہ میں میں نے گجرات کے قریب ایک جنگل میں نماز پڑھ کر اَللَّهُمَّ إِنِّي اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمَ وَالْحُزْن والی دعا نہایت زاری سے پڑھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری روزی کا سامان کچھ ایسا کر دیا کہ مجھے بھی تنگی نہیں ہوئی اور با وجود کوئی خاص کا روبار نہ کرنے کے غیب سے ہزار ہا روپے میرے پاس آئے۔میں نے ابتدا میں سرکاری ملازمت بھی کی ہے۔میرے ایک ہندو دوست نے حضرت مولانا نورالدین صاحب سے کہا کہ آپ کے ماتحت اتنے محکمے ہیں ( اُن دنوں حضرت مولوی صاحب