حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 231
حیات احمد ۲۳۱ سید خصیلت علی شاه جلد پنجم حصہ اوّل لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ حضرت اقدس مسیح موعود جناب مرزا صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالٰی کی پیشگوئی کی تصدیق شنیدم ز مرد صدوق فهیم کہ عیسائے دین رسول کریم به سال گزشته به یاران خود به فرمود روزے مجمع عظیم بقیہ حاشیہ۔پاؤں لگتے تھے وہاں سے چل کر دریا کو پار کیا پھر وہاں سے دریا کے کنارے کنارے چل کر جنگل کے راستہ شہر میں داخل ہوا۔اور کافی رات گئے حضرت مولوی صاحب کے مکان پر پہنچا مولوی صاحب یہ سارا واقعہ سن کر حیران رہ گئے اور فرمایا آپ نے سامان چھوڑ کیوں نہ دیا تا کہ آسانی سے تیر سکتے۔حضرت مسیح موعود کے اسم مبارک سے واقف ہونا شیخ رکن الدین صاحب جو ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور جموں میں ایک ہندو کے مکانات و جائیداد کے کاردار تھے انہوں نے جموں میں حضرت مولانا نورالدین کی خدمت میں عرض کیا کہ ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان نام میں ایک شخص مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی حمایت میں رسالے وکتب لکھی ہیں۔( غالبا ان دنوں براہین احمدیہ شائع ہو رہی تھی ) حضرت مولانا نورالدین صاحب نے یہ سن کر حضور کی خدمت میں خط لکھ کر کتب منگوا ئیں اور ان کتب کی آمد پر حضور کے نام کا جموں میں چرچا ہوا۔میں ان دنوں مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا مرید تھا۔اور ان کے خاندان سے میرے تعلقات تھے۔مولوی عبد اللہ غزنوی کا ایک لڑکا مولوی عبد الواحد حضرت مولوی نورالدین اعظم کے ہاں بیاہا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اول کا بیعت کرنا حضرت مسیح موعود کے دعوئی پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے تو فی الفور بیعت کر لی لیکن مجھے کہا آپ فی الحال بیعت نہ کریں۔بلکہ عبدالواحد کو سمجھائیں، کیونکہ رشتہ داری کے تعلق کے باعث تو وہ مجھ سے کھل کر بات نہیں کر سکتا اگر آپ نے بیعت کر لی تو پھر آپ سے بھی نہ سمجھ سکے گا۔میں مولوی عبدالواحد صاحب کو ایک سال تک سمجھا تا رہا انہوں نے مجھ سے کہا کہ مرزا صاحب پر علماء نے کفر کے فتوے لگائے ہیں ہمیں نے کہا تمہارے باپ پر بھی تو مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا اس کے بعد انہوں نے ایک مولوی صاحب ( غالباً مولوی لکھو کے والے ) کے متعلق لکھا کہ اسے بھی الہام ہوتا ہے اس سے لکھ کر پوچھتا ہوں کہ مرزا صاحب کے دعوی کے متعلق خدا کا کیا حکم ہے۔الجن: ۲۷