حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 228
حیات احمد ۲۲۸ جلد پنجم حصہ اول سے یہ ہے کہ چونکہ انسانی زندگی کا کچھ بھی اعتبار نہیں اس لئے جس قد را حباب اس وقت میرے پاس جمع ہیں میں خیال کرتا ہوں شاید آئندہ سال سب جمع نہ ہو سکیں اور انہی دنوں میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ اگلے سال بعض احباب دنیا میں نہ ہوں گے گو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کشف کا مصداق کون کون احباب ہوں گے اور میں جانتا ہوں یہ اس لئے ہے تاہر ایک شخص بجائے خود سفر آخرت کی تیاری رکھے۔بقیہ حاشیہ نے ذکر کیا کہ ان کے بھائی یعنی حضرت خلیفہ اول حدیث کا علم حاصل کرنے کے لئے مکہ گئے ہوئے ہیں اور کچھ عرصہ تک واپس آئیں گے۔میں ان کا منتظر رہا۔ایک روز صبح کے وقت گجرات میں میرے والد صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب حمام میں نہانے کے لئے گئے۔نہا کر مولوی برہان الدین صاحب نے فرمایا کہ بھیرہ میں بھی ایک اہلحدیث حدیث کا علم پڑھ کر آیا ہے۔میں نے مولوی صاحب سے اُن کا نام پوچھا۔انہوں نے فرمایا نورالدین میں نے پوچھا کیا وہ آ گیا ہے۔کہنے لگے ہاں۔میں نے کہا کہ میں تو اُس کا منتظر تھا۔چنانچہ میں نماز صبح پڑھ کر ایک کمبل کندھے پر رکھ کر چل پڑا۔حضرت خلیفہ اول کی شاگردی تیسرے روز بھیرہ پہنچا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے فضل الدین صاحب اور دیگر اہل حدیثوں سے فرمایا کہ یہ ایک اور اہلحدیث آیا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے اہلحدیثوں کی مسجد یعنی حکیماں والی مسجد کا امام مقرر فرمایا۔اور میرا کھانا اپنے گھر پر مقرر کر دیا۔مولوی صاحب مجھے خود حدیث پڑھاتے تھے لیکن پڑھائی کے دوران میں بہت مریض آجاتے تھے۔حضرت مولوی صاحب ایک دو حدیثیں پڑھانے کے بعد مجھے نسخے لکھوانے لگ جاتے۔اور پھر فرماتے ان کو یہ دوائیاں بانٹ دو۔دوائیوں کی تقسیم کے بعد مولوی صاحب پھر پڑھانا شروع کر دیتے۔اس اثناء میں اور مریض آجاتے تو پھر نسخہ لکھنے اور دوائیاں تقسیم کرنے کا کام شروع ہو جاتا۔غرضیکہ مریضوں کے ہر گروہ کے وقفہ کے درمیان ایک دو حدیثوں کی پڑھائی ہوتی۔اسی اثناء میں ایک بار بھوپال سے ایک اہلحدیث منشی جمال الدین صاحب نے حضرت مولوی صاحب کو بھوپال آنے کیلئے لکھا۔بھوپال میں مقیم ہونے کے ارادہ سے بھیرہ سے روانہ ہوئے اور مجھے بھی لاہور تک ساتھ لائے۔لاہور پہنچ کر فرمایا کہ بھوپال پہنچ کر اور وہاں مقیم ہو کر آپ کو بھی بلا لیں گے اتنی دیر آپ یہیں ٹھہریں لیکن اس اثناء میں حضرت مولوی صاحب کے بڑے بھائی مولوی محمد سلطان صاحب فوت ہو گئے۔اس لئے حضرت مولوی صاحب کو واپس آنا پڑا مولوی صاحب نے لاہور پہنچ کر مجھے سے فرمایا کہ بھیرہ چلو میں نے عرض