حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 227 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 227

حیات احمد ۲۲۷ جلد پنجم حصہ اول دراز سے اسی ریاست میں رہتے تھے) لے کر گئے اور انہوں نے تمام اخراجات خود برداشت کئے۔جَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ۲۸ دسمبر ۱۸۹۷ء کی تقریر جلسہ سالانہ میں آپ نے فرمایا ” اس وقت میری غرض بیان کرنے بقیہ حاشیہ۔ولدیت میرے والد صاحب کا نام معظم الدین تھا۔جو جلال پور ( ضلع گجرات ) میں امام مسجد تھے۔لوگوں کو ان کا نام بلانا مشکل ہوتا تھا۔اس لئے جب وہ اہلحدیث ہو گئے تو انہوں نے اپنا نام بدل کر محمد عبداللہ رکھ لیا۔کنوئیں میں گرنا ایک دفعہ بچپن میں میں نے خواب دیکھا کہ میں کنوئیں میں گر گیا ہوں اور میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا یہ خواب اس طرح پورا ہوا کہ ہمارے گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی خراب اور کھارا ہو گیا تھا اور لوگوں نے اس سے پانی بھرنا چھوڑ دیا تھا پھر اس کنوئیں کو صاف کیا تو سب لوگ اس کنوئیں سے پانی بھرنے لگے۔میں بھی گیا ، پانی نکال رہا تھا معلوم نہیں کہ کس طرح میں کنوئیں میں گر گیا۔گرتے وقت میں محسوس کر رہا تھا کہ میں خواب میں کنوئیں میں گر رہا ہوں اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ ایسا ہی پہلے بھی مجھے خواب آیا تھا کہ میں پانی میں گر گیا ہوں کسی نے مجھے گرتے ہوئے دیکھ لیا اور اس نے شور مچایا۔اس پر بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے چونکہ مجھے بچپن سے تیرنے کی مشق تھی اس لئے پانی میں تیرتا رہا۔لوگوں نے جلدی جلدی پیڑھی سے رسہ باندھ کر کنوئیں میں لٹکائی اور میں اس پر بیٹھ کر باہر نکل آیا۔میری تعلیم میری پیدائش ۱۹۰۸ بکرمی میں ہوئی ہے پانچ چھ سال کی عمر میں قرآن کریم ، ابتدائی مسائل اور صرف ونحو کی ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کرنے کے بعد جہاں کہیں کسی مشہور مولوی صاحب کا پتہ چلتا وہاں جا کر عربی ، فارسی ، فقہ اور حدیث وغیرہ کا علم حاصل کرتا رہا۔بارہ چودہ سال کا تھا کہ مولوی غلام رسول صاحب ساکن قلعہ میاں سنگھ المعروف مولوی صاحب قلعہ والے کا مرید ہوا اور ان کی بیعت کی۔ایک دفعہ میرا بھیرہ جانا ہوا۔وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب۔خلیفہ اول کے بڑے بھائی محمد سلطان صاحب