حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 229
حیات احمد ۲۲۹ جلد پنجم حصہ اول اس پیشگوئی کے موافق حضرت خصیلت علی شاہ صاحب کا ۶ ستمبر ۱۸۹۸ء کوا ابجے دن کے انتقال ہو گیا۔حضرت سید صاحب سلسلہ کے ایک درخشندہ رتن تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت میں سرشار اور آپ کے لئے ہر قسم کی قربانی اور جان شاری کو تیار رہتے تھے دہلی اور لاہور میں حضرت اقدس کے ساتھ تھے ان کی وفات پر ادارہ الحکم نے واقعات ناگزیر کے نام سے بقیہ حاشیہ۔کیا کہ میں اب یہاں پر مدرسہ میں با قاعدہ تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن مولوی صاحب اصرار کر کے بھیرہ واپس لے گئے۔اور فرمایا۔ہم آپ کو طب اور احادیث خود پڑھائیں گے۔پھر میں ہمراہ ہو لیا اور حسب سابق تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا میں تقریباً دس بارہ سال حضرت مولوی صاحب کے پاس رہا اور اس عرصہ میں آپ کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہا اور حضور کے بچوں کی تعلیم و پرورش میں امداد کرتارہا۔ادویات کی کوٹ چھان کی نگرانی۔مریضوں کے نسخے لکھنے اور پھر نسخوں کی تیاری اور تقسیم کا سب کام میرے سپر د تھا۔حضرت خلیفہ اول کا ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت کرنا متھر اداس صاحب ساکن بھیرہ نے جو مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب والی، ریاست جموں وکشمیر کے عہد میں ریاست ہذا میں ملازم تھے۔مہاراجہ صاحب موصوف سے حضرت مولانا نورالدین صاحب کے علم وفضل کا تذکرہ کیا۔اور بتلایا کہ مولوی صاحب جو پہلے ایک ریاست میں ملازم تھے وہاں سے واپس اپنے وطن بھیرہ میں آگئے ہیں۔مہاراجہ صاحب نے فرمایا کہ ”مولوی صاحب کو جا کر فوراً لے آؤ وہ بھیرہ میں آئے اور مولوی صاحب اور خاکسار اور منتصر داس ایک یکہ میں سوار ہو کر کئی روز میں براہ وزیر آباد سیالکوٹ پہنچے حضرت مولوی صاحب کے مشاہرہ کے متعلق گفتگو ہوئی تو متھر اداس صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب کو ماہوار دوسوروپے پہلے ایک ریاست میں ملتا تھا تو مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب نے دوسوروپے ماہوار دینافی الفور منظور کر لیا اور کہا اگر ایسا آدمی دو ہزار روپے ماہوار بھی مانگے تو ہم اس قدر رقم دینی منظور کر کے بھی انہیں ضرور رکھ لیں۔اس کے بعد مہاراجہ صاحب نے پہلے چار اور پھر پانچ سوروپے ماہوار تنخواہ کر دی۔مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں بندش اذان اور خاکسار کا خلیفہ کے لقب سے ملقب ہونا جموں میں ہم جس مکان میں رہتے تھے وہ محلات شاہی کے سامنے تھوڑی دور واقع تھا۔میں اپنے مکان کے باغ میں ایک طرف اذان دیا کرتا تھا اور خاکسار اور مولوی صاحب نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔اس جگہ بھی حضرت مولوی صاحب نے مجھے اپنا امام مقرر کر رکھا تھا۔ان دنوں ریاست جموں و کشمیر میں اذان کی سخت بندش تھی اور اذان دینے والے کیلئے سخت سزا مقر رتھی ایک دن میں نے جوش میں آکر اذان ذرا بلند آواز سے کہہ دی تو