حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 226 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 226

حیات احمد ۲۲۶ جلد پنجم حصہ اول کیا عیسویت حاضرہ قائم رہ سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر گز نہیں یہ بھی کہا کہ ثابت کیسے ہو ؟ تب میں نے کہا کہ یہ تو تاریخی شہادت سے ثابت ہے جو آج نہیں عرصہ دراز کی پیشتر کی تاریخ ہے۔یہ عجیب وغریب علمی کتاب ہے اور اس قبر کی تحقیقات کے لئے آپ نے ایک وفد کشمیر بھیجا جو حضرت خلیفہ نو ر الدین رضی اللہ عنہ ( جو عرصہ حاشیہ۔حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کا ذکر آ گیا تو میں نے مناسب سمجھا کہ ان کا مختصر تذکرہ یہاں درج کر دوں میرے ساتھ ان کے مخلصانہ برادرانہ تعلقات تھے وہ اکثر اپنے ذاتی معلومات میں مجھ سے مشورہ کرتے باوجود کہ میں عمر میں ان سے چھوٹا تھا۔مگر وہ اپنی بزرگانہ شفقت سے میرے لئے جذبات احترام رکھتے تھے ایک مرتبہ ایک مخلص اور ایک معزز بھائی کی اعانت کیلئے میں نے کہا کہ اس کو ایک سو روپیہ دے دو وہ خود بھی ان کو جانتے تھے کہ وہ ایک معزز اور مخلص خاندان کے قابل قدر فرد ہیں فوراً پیش کر دیا۔ان بزرگوں کے ہم پر حقوق ہیں اور راز حقیقت“ کے مواد کیلئے جو انہوں نے کوشش کی وہ کسر صلیب کے منصب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت بڑا حربہ ہے۔الحکم نے ان کی زندگی کے آخری ایام میں ان کے کچھ حالات ۱۹۳۹ ء میں شائع کئے تھے انہیں یہاں درج کر دیتا ہوں تا کہ ایک واجب الاحترام، مخلص ، سلسلہ کے ایک فدا کار اور ذی علم، حضرت کے صحابی کی یاد تازہ ہو جائے۔حضرت خلیفہ نورالدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے اولین صحابہ اور جماعت کے بزرگوں میں سے ہیں۔اس وقت وہ بہت ضعیف ہو گئے ہیں افسوس ہے کہ اس وقت تک کسی دوست نے ان کی سوانح حیات جمع کرنے کی طرف توجہ نہ کی خلیفہ صاحب کا حافظہ بھی اس وقت بہت کمزور ہو گیا ہے یوں بھی اب وہ اونچا سنتے ہیں مشکل سے یہ حالات متواتر ان کے پاس کئی بار بیٹھ کر سنے اور لکھے ان حالات کے جمع کرانے میں محترمی خلیفہ عبدالرحیم صاحب۔خلیفہ عبدالرحمن صاحب اور عزیزم خلیفہ عبدالمتان صاحب بی اے نے امداد دی ہے۔فَجَزاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ یہ حالات لکھنے کے بعد احتیاطاً خلیفہ عبدالرحیم کو سنا دیئے گئے ہیں اپنی طرف سے ہم نے کافی احتیاط کی ہے لیکن چونکہ خلیفہ صاحب کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے اس لئے اگر کسی واقعہ کے بیان میں کسی قدر کمی و بیشی ہوگئی ہو تو جس دوست کی یادداشت میں صحیح واقعہ موجود ہوتو وہ اس کی تیج کردیں۔حضرت خلیفہ صاحب حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل کے اولین خادموں اور پرانے ساتھیوں میں سے ہیں۔آپ نے اپنے جو حالات اپنی زبان سے بیان فرمائے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔اصل وطن ہمارا اصل وطن جلال پور جٹاں (پنجاب) ہے۔لیکن مہاراجہ رنبیر سنگھ آنجہانی کے ابتدائی وقت میں یعنی بہت کافی عرصہ سے ہم ریاست جموں و کشمیر میں مقیم ہو گئے ہیں۔