حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 225
حیات احمد ۲۲۵ جلد پنجم حصہ اول حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام رفیع کی معرفت پیدا ہو کر آپ کی اتباع کا جوش پیدا ہوتا ہے حضرت نبی کریم ﷺ کے محامد اور شان کے بیان کے ساتھ آپ نے اپنے دعوی کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی کے ثمرات میں بطور ثبوت پیش کیا ہے یہ کتاب ۲۰ نومبر ۱۸۹۸ء کو شائع ہوگئی اور جیسا کہ آپ کی خواہش تھی انگریزی زبان میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہو گیا۔راز حقیقت یا کسر صلیب معقولی اور منقولی دلائل جو آپ نے اپنی مختلف تصانیف میں کسر صلیب کے لئے دیئے ہیں وہ بجائے خود لا جواب ہیں اور اس جدید علم کلام کی بنیاد ہیں جو اظہا ر الدین کے لئے آپ کو دیا گیا ہے مگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور خاص علمی اور تاریخی حربہ کسر صلیب کے لئے دیا اور وہ یہ کہ آپ نے الہاما اللہ تعالیٰ سے علم پا کر یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم علیہما السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ زندہ اتار لئے گئے اور پھر انہوں نے ہندوستان کو ہجرت کی اور کشمیر کی سرزمین میں ۱۲۰ برس کی عمر میں اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے اور محلہ خان یارسری نگر میں آپ مدفون ہیں اس حقیقت کے اظہار میں آپ نے راز حقیقت“ کے نام سے ایک مختصر کتاب شائع کی اور بعد میں مسیح ہندوستان میں“ کے نام سے ایک مبسوط کتاب لکھ کر شائع کی۔یہ کتاب بھی انہی ایام مصروفیت میں لکھی گئی جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔چنانچہ ۳۰ رنومبر ۱۸۹۸ء کو اس کی اشاعت ہوئی۔قارئین کرام اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس قدر مصروف زندگی آپ کی تھی اور کس قدر جوش احیاء اسلام اور ابطال باطل کے لئے آپ کو عطا ہوا تھا۔اس کتاب کی اشاعت نے ایوان عیسویت میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔اس لئے کہ مسئلہ کفارہ کی ساری بنیاد تو صلیبی موت ہی تھی جب یہ ثابت ہو گیا تو عیسویت کی ساری عمارت گر جاتی ہے۔میں نے (راقم الحروف) بعض عیسائیوں سے پوچھا کہ اگر یہ واقعہ ثابت ہو جاوے تو دیانت داری سے بتاؤ کہ