حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 221
حیات احمد ۲۲۱ جلد پنجم حصہ اول پلایا جاتا ہے۔اسی لئے ایک مرد متنی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اُسی کو اپنے اقرار یا ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اُس میں سُنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے۔اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے در اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سن کر معرفتِ تامہ کا دروازہ اُس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچاتا ہے۔“ ایام الصلح صفحہ ۳۱ ۳۲۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۶۱) ایمان اور اس کے مراتب کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اپنے دعوئی کی صداقت کو پیش کیا ہے اور ان چار طریقوں کو بیان کیا جو اہل حق کے لئے صحیح معیار ہیں۔اہل حق کے نزدیک اس امر میں اتمام حجت اور کامل تسلی کا ذریعہ چار طریق ہیں (۱) اوّل نصوص صریحہ کتاب اللہ یا احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ جو آنے والے شخص کی ٹھیک ٹھیک علامات بتلاتی ہوں اور بیان کرتی ہوں کہ وہ کس وقت ظاہر ہوگا اور اس کے ظاہر ہونے کے نشان کیا ہیں اور نیز حضرت عیسی کی وفات یا عدم وفات کا جھگڑا فیصلہ کرتی ہوں (۲) دوم وہ دلائل عقلیہ اور مشاہدات حسیہ جو علوم قطعیہ پر مبنی ہوں جن سے گریز کی کوئی راہ نہیں (۳) وہ تائیدات سماویہ جو نشانوں اور کرامات کے رنگ میں مدعی صادق کے لئے اُس کی دعا اور کرامت سے ظہور میں آئی ہوں تا اس کی سچائی پر نشانِ آسمانی کی زندہ گواہی کی مہر ہو (۴) چہارم اُن ابرار اور اخیار کی شہادتیں جنہوں نے خدا سے الہام پا کر ایسے وقت میں گواہی دی ہو کہ جبکہ مدعی کا نشان نہ تھا کیونکہ وہ گواہی