حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 222 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 222

حیات احمد ۲۲۲ جلد پنجم حصہ اوّل بھی ایک غیب کی خبر ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ یہ چاروں طریق اتمام حجت اور کامل تسلی کے اس جگہ جمع ہو گئے ہیں۔“ ایام الصلح صفحہ ۳۸۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۶۸) ہمارا مذہب بالآخران معیارات اربعہ پر اپنے دعوی کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے اور بالآخر اپنے مذہب کا اعلان اس طرح پر فرمایا۔بالآخر یا در ہے کہ جس قدر ہمارے مخالف علماء لوگوں کو ہم سے نفرت دلا کر ہمیں کافر اور بے ایمان ٹھہراتے اور عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ شخص معہ اس کی تمام جماعت کے عقائد اسلام اور اصول دین سے برگشتہ ہے۔یہ اُن حاسد مولویوں کے وہ افترا ہیں کہ جب تک کسی دل میں ایک ذرہ بھی تقوی ہو ایسے افتر انہیں کر سکتا۔جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنارکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے۔اور جس خدا کے کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔بالخصوص قصوں میں جو بالا تفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد مصطفی امت ہے اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جَلَّ شَانُۂ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالاحق ہے۔اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے