حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 220
حیات احمد ۲۲۰ جلد پنجم حصہ اول سورہ فاتحہ کی تفسیر قرآنی تعلیم کا مغز ہے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے بیان کرنے کے متعلق فرمایا۔ی تفسیر سورۃ فاتحہ محض اس غرض سے یہاں لکھی گئی ہے کہ یہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا مغز ہے اور جو شخص قرآن سے اس کے برخلاف کچھ نکالنا چاہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور اس سورہ فاتحہ میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دعا میں مشغول رہیں بلکہ دعا اِهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِیم سکھلائی گئی ہے اور فرض کیا گیا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کریں پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دعا کی روحانیت سے انکار کرے۔قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دعا اپنے اندر ایک روحانیت رکھتی ہے اور دعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ ایام الصلح صفحہ ۳۰۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۵۹) بخشتا ہے۔ایمان اور اس کے مراتب اسی ضمن میں اور اس کے مراتب کو اس طرح پر بیان فرمایا۔ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اُس حالت میں مان لینا کہ جب کہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک وشبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راست بازشمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو مو ہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو یہ دعا نوع انسان کی عام ہمدردی کے لئے ہے کیونکہ دعا کرنے میں تمام نوع انسان کو شامل کر لیا ہے اور سب کے لئے دعا مانگی ہے کہ خدا دنیا کے دکھوں سے انہیں بچاوے اور آخرت کے ٹوٹے سے محفوظ رکھے اور سب کو سیدھی راہ پر لاوی منه