حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 219
حیات احمد ۲۱۹ جلد پنجم حصہ اول کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔دعا سے الہام ملتا ہے۔دعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔جب انسان اخلاص اور تو حید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے۔دعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اس بچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دعا ہی ہے جس سے خدا وند ذوالجلال ڈھونڈنے والوں پر مجتبی کرتا اور اَنَا الْقَادِرُ کا الہام ان کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یا در کھے کہ اس زندگی میں روحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشتا ہے اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔“ ایام الصلح صفحہ ۱۱،۱۰۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۳۸ تا ۲۴۰) اسی سلسلہ میں سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر حسن و احسان کی حقیقت ، بینات و محکمات اور متشابہات کا فلسفہ بیان فرمایا ہے۔گو مضمون تو دعا اور تدبیر کے باہمی تعلق سے شروع فرمایا ہے مگر اس کے مختلف پہلوؤں پر نہایت معقول اور دلچسپ بحث کر کے ایمانی قوتوں کے نشو نما کی راہ پیدا کر دی ہے۔