حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 207
حیات احمد ۲۰۷ جلد پنجم حصہ اول (۳) حضرت اقدس امام الزماں سَلَّمَهُ الرَّحْمَان کو اللہ کریم نے وعدہ دیا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا میں کود یکھتا ہوں کہ اس مقدس الہام کے پورا ہونے کی بہت سی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔ہے الحکم جلد ۲ نمبر ۲۴ ، صفحہ ۱۴۔پر چه ۲۷ /اگست ۱۸۹۸ء والحکم جلد۲، نمبر ۵، پر چه ۲۷ / مارچ ۲۰ را پریل ۱۸۹۸، صفحه ۱۳) (۴) میں نے تہجد میں اس سے کے متعلق دعا کی تو الہام ہوا۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ۔اب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام جو ہوا تھا کہ کون کہہ سکتا ہے، اسے بجلی ! آسمان سے مت گر شاید اسی سے متعلق ہو۔الحکم جلد نمبر ۲۷،۔پر چہ۲۴ / جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ۔تذکرہ صفحہ۲۶۰) ل (1) إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِانْفُسِهِمْ۔(۲) إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ - (۳) إِنِّي مَعَ الرَّحْمَنِ آتِيكَ بَغْتَةً۔(۴) إِنَّ اللَّهَ مُؤْهِنُ كَيْدَ الْكَافِرِينَ۔“ ( منقول از خط مولوی عبدالکریم صاحب محرره یکم فروری ۱۸۹۸ء۔اخبار بدر جلد نمبر۴ ، ۵ مورخه ۱۶/ نومبر ۱۹۱۲ صفحه ۳) (ب) '' مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِاَ نُفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ۔یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری وباء بھی دور نہ ہو گئی“۔(اشتہار طاعون مورخہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء۔تذکره صفحه ۲۶۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء) لے ایڈیٹر الحکم۔مرتب کے مرض طاعون کی شدت۔خاکسار مرتب۔(ترجمه از مرتب ) (۱) تحقیق اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ اس چیز کو نہ بدلیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔(۲) تحقیق وہ اس بستی کو کچھ تکلیف کے بعد پناہ میں لے لے گا۔(۳) میں رحمن کے ساتھ تیرے پاس اچانک آنے کو ہوں۔تحقیق اللہ تعالیٰ ذلیل کرنے والا ہے کافروں کے منصوبے کو۔