حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 201 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 201

حیات احمد ۲۰۱ جلد پنجم حصہ اول امام الوقت کے ساتھ کہاں تک ارادت ہے کہ ماں، باپ ، عزیز واقارب کی محبتوں تک کو وہ اُس کی محبت میں سرد کئے بیٹھے ہیں۔ناظریں پڑھیں اور غور کریں کہ ایسے اشخاص کا حضرت اقدس کے پیچھے ہو لینا کیا کم کامیابی ہے؟ سوچو! اور پھر سوچو! جناب مخدومنا مولانا نورالدین صاحب کے حالات سے جو واقف ہیں ان کو اور بھی غور کرنے کے لئے ایک وسیع میدان ملے گا کہ کیوں کر ایک شخص کی اطاعت کے لئے جو درحقیقت اللہ اور رسول کی اطاعت ہے۔وطن چھوڑا۔مال و دولت چھوڑا۔اعزاز چھوڑا۔اور سب کچھ چھوڑا۔الغرض ایسے ہزار ہا لوگ ملیں گے جنہوں نے اس امام کو پہنچانا اور اس کے پیچھے ہو لئے اور اَلْحَمْدُ لِله ہم بھی علی الاعلان اظہار کرتے ہیں کہ خدا نے ہم کو بھی توفیق دی کہ اس امام کو پہچانیں اور اس کے پیچھے ہو لیں۔خدا تعالیٰ ہم کو اور اُن تمام احباب کو جو اس نعمت کو پاچکے ہیں استقامت نصیب کرے اور اُس غرض کو سمجھا دے جس کے لئے وہ امام ہو کر آیا ہے۔آمین بالآخر ہم پھر ایک بار کہنا چاہتے ہیں کہ اس خط کو ہمارے مخالف خصوصاً غور سے پڑھیں کیونکہ اس میں اُن کے لئے نور ہے اور اس میں ایک راستباز کی شناخت کی راہ نظر آتی ہے۔ہمارے دوست اس خط کو ایک دوسری نظر سے پڑھیں وہ اپنے اندر ٹول کر دیکھیں کہ جب تک انسان امام کے ساتھ تعلق پیدا کر کے دنیا اور اہل دنیا کی محبتوں کو اس کی محبت پر قربان نہ کر دے وہ سچا متبع نہیں ہوسکتا۔اس گرامی قدر خط کے کچی ارادت اور حقیقی عقیدت سے لکھے جانے کا ہمارے پاس یہ قوی اور زبردست ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کو قبولیت کا درجہ دیا۔یعنی حضرت اقدس امام الزماں سَلَّمَهُ اللهُ الرَّحْمٰن نے اتفاقاً اسے پڑھا اور اپنے جدید اور ضروری رسالہ ضرورۃ الامام کا ایک جز و قرار دیا۔آخر میں دعا ہے کہ جس نیت اور غرض کے لئے یہ خط لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ اُسے پورا کرے۔اب ہم وہ اصل خط درج کرتے ہیں۔