حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 200 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 200

حیات احمد ۲۰۰ جلد پنجم حصہ اوّل دعوے کی صداقت کے لئے ہم اتنا ہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا اس نے ایسے دلوں پر فتح پائی ہے یا نہیں؟ ہم ان تمام خوارق اور معارف اور اعجازی امور کو جو اس کے ہاتھ سے سرزد ہوئے چھوڑتے ہیں صرف یہی ایک بات دیکھتے ہیں کہ وہ تسخیر قلوب میں کہاں تک کامیاب ہوا ہے۔ہاں ! بے شک اُس نے ایسے دل حاصل کئے ہیں اور ان روحوں پر اپنا سکہ جمایا ہے جن پر فتح پانا انسانی کام نہ تھا۔اور پھر ایسی فتح کہ جان، مال، عزت، آبر وسب کچھ انہوں نے اس کے ہاتھ میں دے دی بے شک یہ ہے فتح مندی! یہ ہے وہ کامیابی جسے کامیابی کہنا چاہیے۔اور پھر ایک نہیں ، دو نہیں ، دس نہیں ہزاروں دل ایسے اپنی سلک اطاعت میں منسلک کئے کہ ایک دوسرے سے زیادہ ارادت اور عقیدت رکھتا ہے وہ مدعی کون ہے عالی جناب مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود اَيَّدَهُ اللهُ الْوَدُود ( علیہ الصلوۃ والسلام ) اس کامیابی کے اظہار کے لئے اگر ہم دفتروں کے دفتر لکھیں تو ختم نہ ہوں۔ہم صرف ذیل میں ان تسخیر شدہ دلوں میں سے ایک دل کا ذکر کرتے ہیں۔اور وہ بھی اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ خود اس کے اپنے ہی الفاظ میں جو روح اور راستی کے ساتھ ایک عظیم الشان طاقت وقوت کی بنا پر جو اس کی روح کو حاصل ہوئی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اُس نے اپنے ایک خط کے ذریعہ ظاہر کئے ہیں اس مسخر دل سے ہمارے مخدوم ومحسن جناب مولا نا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مراد ہیں۔اور یہ خط انہوں نے اپنے ایک قدم دوست چودھری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈر سیالکوٹ کے نام بطور تبلیغ لکھا ہے۔خط پر ہم کیا ریمارک کریں اسے صرف ناظرین ہی کی غور و فکر کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔وہ دیکھیں گے کہ کس بچے جوش اور ارادت سے تبلیغ کی گئی ہے اس سے یہ امر بھی ثابت ہوگا کہ مولوی صاحب کو چوہدری صاحب ممدوح سے کسی قدر محبت ہے کیوں کہ انسان جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے اپنے احباب کے لئے بھی اُسے عزیز رکھتا ہے۔ہم کو اس امر کے اظہار کی کچھ ضرورت نہیں کہ ان کو