حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 199
حیات احمد ۱۹۹ جلد پنجم حصہ اول پر غور کرنے سے ان باتوں کی تفتیش اور تحقیق میں ایک خاص لذت ملتی ہے۔بہر حال انسان میں ایسے قومی فطرتا موجود ہیں جو اُس کو اپنے ہم جنس کی اطاعت کی اجازت دینا نہیں چاہتے ورنہ کیا بھید تھا؟ جو ہر ایک آنے والے رسول کو کہا گیا مَا نَرُبكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا یہی تو وہ سر تھا اور پھر اس میں کیا مصلحت ایزدی ہے کہ رسول اُسی ملک کا باشندہ اور اُسی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے جس قوم اور ملک کی طرف وہ مامور ہوتا ہے اسی لئے کہ اس کی اطاعت کی طرف وہ اور بھی جھکنے کا اظہار کریں گے۔ور نہ ہو سکتا تھا کہ کسی دوسرے ملک اور قوم میں سے آجا تا اگر ایسا ہوتا تو وہ اعلیٰ مدارج کیوں کر ملتے ! غرض ہم نے مختصراً اس راز کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسی قوم اور ملک میں یا یوں کہو کہ رَسُولٌ مِّنْهُمْ کیوں آتا ہے؟ اس بیان سے ہمارا مقصد یہی تھا کہ با وجود ایسی رکاوٹوں کے جو طبعا انسان کے لئے ایک صداقت کے قبول کرنے کے راہ میں ہوتی ہیں پھر اگر ایک دل بھی پوری محبت ہاں ایسی محبت کے ساتھ جو اس کو اپنی جان اپنے عزیز واقارب یہاں تک کہ اپنے مربی و حسن والدین کو بھی اُس ایک انسان کی محبت پر قربان کر دینے کو آمادہ کر دے اور اس کے ساتھ ہولے تو یقیناً سمجھو اس آنے والے نے ایک قابلِ ناز فتح حاصل کی۔اگر وہ ایسے بہت سے دلوں کو تسخیر کرلے اور اپنا گرویدہ بنالے تو پھر اس کے عظیم الشان مظفر و منصور ہونے میں کیا شبہ رہا؟ یہ مضمون ایسا لذیذ ہے کہ جی چاہتا ہے کہ لکھتے جائیں مگر طوالت کا خیال مانع ہے اس لئے اب مختصر کرتے ہیں۔اس اصول کے بعد ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس زمانہ میں بھی ایک مدعی مامور من اللہ ہونے کا دعوے دار ہے اور وہ کسی دور دراز ملک اور دیش سے نہیں آیا۔نہ ایسا ہے کہ ہم اس کی زبان سے اور وہ ہماری بولی سے آشنا ہی نہیں۔وہ ہم میں سے ہی ایک ہے، اسی پنجاب کا رہنے والا ہے۔اس نے ہم میں ہی پرورش پائی اور بڑھا اب اس کے هود: ۲۸