حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 193 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 193

حیات احمد ۱۹۳ جلد پنجم حصہ اوّل ابتدا سے اس میں ایک قسم کی خود پسندی تھی پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس طرح پر اس کا تنقیہ کر دے یہ اس کے لئے استفراغ ہے۔۔فرمایا یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس نے ایک کام تو کیا ہے۔براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیوں کہ اُس وقت یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہو جاوے اور ایک بار اصرار کر کے مجھے وضو کرایا۔غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ میں قادیان ہی میں آکر رہوں مگر میں نے اُس وقت اُسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا ، اس کے بعد اسے یہ ابتلا پیش آ گیا، کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو 66 اس پر ایک بھائی نے سوال کیا کہ اب اسے کیا سمجھیں۔فرمایا۔اب تو حکم حالت موجودہ ہی پر ہوگا۔وہ دشمن ہی اس سلسلہ کا ہے۔دیکھو جب تک نطفہ ہوتا ہے اس کا نام نطفہ رکھتے ہیں گو اُس کا انسان بن جاوے مگر جوں جوں اُس کی حالتیں بدلتی جاتی ہیں اس کا نام بدلتا جاتا ہے۔عَلَقَه ، مُضْغَہ وغیرہ ہوتا ہے۔آخر اپنے وقت پر جا کر انسان بنتا ہے یہی حال اس کا ہے سر دست تو وہ اس سلسلہ کا مخالف اور دشمن ہے اور یہی اس کو سمجھنا چاہیے۔“ الحکم مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ سے کالم نمبر صفحہ کالم نمبر ) غرض اس وقت اعلام الہی سے اعلان کیا گیا کہ یہ شخص مرنے سے پہلے میرے کفر سے رجوع کرے گا۔اور یہ سلسلہ لمبا ہوتا گیا اور مزید بیس برس تک جاری رہا اور خود حضرت اقدس کا بھی انتقال ہو گیا جیسا کہ پیشگوئی کے مندرجہ بالا الہام سے معلوم ہوتا ہے اس کا رجوع حضرت کی وفات کے بعد ہو گا وہ اپنی موت سے پہلے رجوع کر گیا۔چنانچہ ۱۹۱۳ء میں بعدالت لالہ دیو کی نندن منصف