حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 192
حیات احمد ۱۹۲ جلد پنجم حصہ اوّل مولوی محمد حسین نے ایک اور پیشگوئی کو پورا کیا مگر اس کو یہ ہمت نہ ہوئی اور سچ تو یہ ہے کہ نہ تو اس کی کوئی جماعت تھی اور اہلحدیث بھی اس سے بغاوت کر چکے تھے تا ہم اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھو کہ اس نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ عدالتوں میں بیان دے کر اپنے ہاتھ اور زبان سے ایک اور پیشگوئی کو جو اس کے حق میں ۱۸۹۳ء میں کی گئی تھی پورا کر دے اگر چہ ۱۸۹۳ء کے واقعات میں اسے درج کر آیا ہوں مگر اس موقعہ کی مناسبت سے پھر اسے لکھنا پڑا کہ ۴ رمئی ۱۸۹۲ء کو جو اعلان آپ نے شائع کیا اس میں لکھا کہ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنَّ هَذَا الرَّجُلَ يُؤْمِنُ بِإِيْمَانِى قَبْلَ مَوْتِهِ وَرَأَيْتُ كَانَّهُ تَرَكَ قَوْلَ التَّكْفِيرِ وَ تَابَ۔وَهَذِهِ رُؤْيَايَ وَاَرْجُوَانُ يَجْعَلَهَا رَبِّي حَقًّا “۔(حجۃ الاسلام صفحہ ۱۹۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۵۹) ترجمہ۔میں نے دیکھا کہ یہ محمد حسین اپنی موت سے پہلے میرے مومن ہونے پر ایمان لائے گا اور میں نے دیکھا کہ گویا اس نے میری تکفیر کو ترک کر دیا ہے اور اس سے رجوع کر لیا ہے اور یہ میری رؤیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو سچا کر دکھلائے گا“۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب مولوی محمد حسین مخالفت کے بازار میں سب سے آگے اور رئیس المکفرین تھا اور مخالفت کی شدت بڑھ رہی تھی ایسی حالت میں ایک مادہ پرست کو تو نظر آتا تھا کہ یہ پیشگوئی پوری نہ ہوگی مگر اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ایسے وقت بعض امورغیب سے اپنے برگزیدوں کو مطلع فرماتا ہے کہ دنیا کے فرزند ا سے ناممکن یقین کرتے ہیں چنانچہ ایک مرتبہ اس پیشگوئی کے متعلق ذکر میں آپ نے دس سال بعد نہایت قوت سے اس کے پورا ہونے کا یقین ظاہر کیا جسے میں نے الحکم ۷ار جنوری ۱۹۰۳ء میں شائع کرایا۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی پیشگوئی کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا کہ اس میں کیا شک ہے زور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ رجوع کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی مقدر کیا تھا۔اصل میں محمد حسین زیرک آدمی تھا مگر میں دیکھتا تھا کہ