حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 194
حیات احمد ۱۹۴ جلد پنجم حصہ اول درجه اول گوجر انوالہ مولوی محمد حسین بمقد مہ کریم بی بی بنت محمد الہ دین لوہار بنام رحمت اللہ ولد عبد اللہ قوم لوہار ساکن نظام آباد میں مدعی علیہ کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوا اور اپنے بیان حلفی میں اقرار کیا کہ احمدی فرقے کے مسلمان کا فرنہیں ہیں۔اپنی شہادت کے ضمن میں کہا کہ ” سب سے اوّل فرقہ حنفی۔اس کے بعد تھوڑے عرصہ میں فرقہ مالکی جوامام مالک کی طرف منسوب ہے، اس کے بعد فرقہ شافعی ، اس کے بعد فرقہ حنبلی جو امام احمد بن محمد بن حنبل کی طرف منسوب ہو۔پہلے تمام اہل اسلام کا ایک ہی مذہب تھا اور امن کا زمانہ تھا اور کوئی کشمکش ان کی باہمی نہ تھی اور قریب زمانہ رسول اللہ کے سبب اور اصحاب رسول اللہ کے بعد ان کے تابعین کے سبب امن تھا آپس میں ایسا اختلاف نہ تھا کہ جس کے سبب ایک دوسرے کو بُرا کہے یا مخالفت کرے اس کے بعد جب باہمی نفسانیت پیدا ہوگئی اور اعتقاد بدعت کے پیدا ہو گئے تو لوگوں نے اپنے اماموں کی طرف کہ جن کی ان کو زیادہ تر محبت و اعتقاد تھا پیروی اختیار کی اور فرقہ بندی ہوگئی یہ سب فرقے قرآن مجید کو خدا کا کلام مانتے ہیں اور یہ فرقے قرآن کی مانند حدیث کو بھی مانتے ہیں۔ایک فرقہ احمدی بھی اب تھوڑے عرصہ سے پیدا ہوا ہے ، جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ مسیحیت اور مھدویت کا کیا ہے یہ فرقہ بھی قرآن کو اور حدیث کو مانتا ہے کسی فرقہ کو جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ہمارا فرقہ مطلقاً کافر نہیں کہتا۔“ اس رجوع کے متعلق ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم نے مولوی عمر الدین کا ایک تحریری بیان شایع کیا ہے جو بہت واضح اور تین ہے۔مولانا نورالدین صاحب کے زمانہ میں ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب چندہ جمع کرنے شملہ آئے ہماری جماعت احمد یہ شملہ سے بھی چندہ مانگا جب ہم لوگوں نے چندہ دینے سے انکار کیا تو مولوی صاحب نے کہا کہ مجھے تو مولوی نورالدین صاحب نے بھی اس دینی کام کے لئے چندہ دیا ہے اور یہ کام مسلمانوں کے رفاہ عام کا ہے تب ہم نے قادیان سے دریافت