حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 182 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 182

حیات احمد ۱۸۲ جلد پنجم حصہ اول کے ذریعہ سے اطلاع دی تھی کہ تم پر ایسا مقدمہ عنقریب ہونے والا ہے۔اور اس اطلاع پانے کے بعد میں نے دعا کی اور دعا منظور ہو کر آخر میری بریتت ہوئی۔اور قبل انفصال مقدمہ کے یہ الہام بھی ہوا کہ تیری عزت اور جان سلامت رہے گی اور دشمنوں کے حملے جو اسی بد غرض کے لئے ہیں ان سے تجھے بچایا جائے گا۔اس الہام سے اور ان سب خبروں سے جو پیش از وقت معلوم ہوئیں میں نے ایک جماعت کثیر کو اپنے دوستوں میں سے خبر کر دی تھی۔۔جو دوسو سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے۔اور یہ تمام احباب خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کو قبل از وقت اس مقدمہ کے پیدا ہونے اور آخر بُری ہونے کی خبر دی گئی۔اور نہ صرف وہی اس کے گواہ ہیں بلکہ عین عدالت کے کمرے میں مسٹر برون صاحب اور مولوی فضل دین صاحب وکیلان چیف کورٹ کو بھی اس سے ایسے موقع پر اطلاع دی گئی جس سے ان کو بھی ماننا پڑا کہ یہ غیب کی باتیں اور خدا کی پیشگوئیاں ہیں جو آج پوری ہوئیں۔یہ آخرالذکر وہ دو معزز شخص ہیں جو میرے سلسلہ میں داخل بھی نہیں ہیں۔یعنی ایک ولوی فضل دین صاحب وکیل چیف کورٹ اور دوسرے مسٹر برون صاحب جو چیف کورٹ کے ایک معزز وکیل اور یورپین اور مذہب کے عیسائی ہیں اور بری ہونے کے لئے جو پیش از وقت دعا کی گئی تھی وہ رسالہ حقیقت المہدی کے پہلے صفحہ میں ایک شعر میں اس طرح پر بیان کی گئی ہے۔خود بروں آ از بیٹے ابراء من اے تو کہف و ملجاؤ ماواء من یعنی اے خدا جو تو میری پناہ اور میرا جائے آرام ہے میرے بری کرنے کے لئے آپ تجلی فرما۔اب دیکھو کہ یہ دعا کیسی قبول ہوئی اور کس طرح میرے مخالفوں کی تمام وہ حمد حاشیہ۔اس الہام سے میں نے اس جگہ کے سرگرم اور متعصب آریہ لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل کو بھی قبل از وقت خبر کر دی تھی۔یعنی جب میں نے ایک سچی گواہی کیلئے ان کو کہا اور ان کی طرف سے انکار کی علامتیں دیکھیں تو تب میں نے کہا کہ تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں مجھے خدا نے بشارت دے دی ہے کہ اس مقدمہ سے میں تمہیں بچالوں گا۔منہ