حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 183 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 183

حیات احمد ۱۸۳ جلد پنجم حصہ اول کوششیں جو مجھے سزا یاب کرانے کے لئے کی گئی تھیں یہ باد ہو گئیں۔اور یادر ہے کہ یہ پیشگوئی صرف بری کرنے تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس کے تو بہت اجزاء تھے جو بڑی شد ومد سے پوری ہوگئی۔یہ مقدمہ پولیس کی طرف سے کھڑا کیا گیا تھا۔اور پولیس کی غرض یہ تھی کہ اس میں کوئی سزا یا کم سے کم کوئی سنگین ضمانت ہو جائے۔منشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی طرف سے اس کی بنیاد پڑی اور ہم قبول کرتے ہیں کہ منشی صاحب مذکور نے اپنی سمجھ اور اپنی نیک نیتی کی حد تک اس طرح پر اپنے فرض منصبی کو ادا کرنا چاہا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ مجھ سے کوئی حرکت مجرمانہ نہیں ہوئی اس لئے اس نے پیش از وقت مجھے تسلی دی اور مجھے خبر دی کہ اس مقدمہ میں اہلِ پولیس اپنے اغراض میں ناکام رہیں گے۔اور محمدحسین ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کا آئندہ کے لئے بدزبانی سے منہ بند کیا جائے گا اور ابھی مسٹرڈوئی صاحب عدالت کی کرسی پر اجلاس فرما کر شیخ محمد حسین بٹالوی کو فہمائش کر رہے تھے کہ آئندہ وہ تکفیر اور بد زبانی سے باز رہے اور سید بشیر حسین صاحب اور منشی محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ عدالت میں حاضر تھے کہ اسی وقت رسالہ حقیقت المہدی جس کے صفحہ ۲ اپر یہ پیشگوئیاں ہیں عین عدالت کے کمرہ میں مولوی فضل الدین صاحب پلیڈ ر چیف کورٹ اور مسٹر برون صاحب پلیڈر چیف کورٹ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔اور وہ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے عدالت کے سامنے ان پیشگوئیوں کو پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس وقت یہ حاشیہ۔یہ عجیب کاروبار قدرت ہے کہ محمد حسین کو مسٹر ڈوئی صاحب نے مقدمہ سے اس غرض سے علیحدہ کر دیا تھا کہ جو اس کی نسبت الزام ہے اس کی بعد میں تحقیقات ہوگی۔لیکن میرے مقدمہ کی اخیر پیشی پر خود بخود محمد حسین بغیر کسی تعلق کے محض تما شا د یکھنے کیلئے حاضر عدالت ہو گیا۔تب عدالت نے اس کو حاضر پا کر بلا توقف اُس سے اِس مضمون کے نوٹس پر دستخط کرالئے کہ آئندہ وہ بد زبانی اور گالیوں اور تکفیر اور تکذیب سے باز رہے گا۔سواس وقت اس کو کسی نے بلایا نہیں تھا محض خدا کا ارادہ اس کو کھینچ کر لایا تا اس کا یہ پاک الہام پورا ہو کہ محمد حسین کا منہ بد زبانی سے بند کیا جائے گا۔منه