حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 181
حیات احمد ۱۸۱ جلد پنجم حصہ اول کہ اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی نیت بخیر نہیں جمعہ کی رات مجھے یہ خواب آئی کہ لکڑی یا پتھر کو میں نے جناب الہی میں دعا کر کے بھینس بنا دیا ہے اور پھر اس خیال سے کہ ایک بڑا نشان ظاہر ہوا ہے، سجدہ میں گر گیا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں رَبِّيَ الأعْلَى رَبِّيَ الاعلی میرے خیال میں ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ لکڑی اور پتھر سے مراد وہی سخت دل اور منافق طبع حاکم ہواور پھر میری دعا سے اُس کا بھینس بن جانا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمارے لئے ایک مفید چیز بن گئی ہے جس کے۔دودھ کی امید ہے اگر یہ تاویل درست ہے تو امید قوی ہے کہ مقدمہ پلٹا کھا کر نیک صورت پر آجائے گا۔اور ہمارے مفید ہو جائے گا۔اور سجدہ کی تعبیر یہ کھی ہے کہ دشمن پر فتح ہوالہامات بھی اس کے قریب قریب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس خواب کے ظہور کا محل کوئی اور ہو بہر حال ہمارے لئے بہتر ہے۔خواہ کسی پیرا یہ میں ہو۔“ ☆ منجملہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کے ایک یہ نشان ہے کہ وہ مقدمہ جو منشی محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی رپورٹ کی بنا پر دائر ہوکر عدالت مسٹر ڈوئی صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ میں میرے پر چلایا گیا تھا جو فرورتی ۱۸۹۹ء کو اس طرح پر فیصلہ ہوا کہ اُس الزام سے مجھے بری کر دیا گیا۔اس مقدمہ کے انجام سے خدا تعالیٰ نے پیش از وقت مجھے بذریعہ الہام خبر دے دی تھی کہ وہ مجھے آخر کار دشمنوں کے بدارا دے سے سلامت و محفوظ رکھے گا اور مخالفوں کی کوششیں ضائع جائیں گی سو ایسا ہی وقوع میں آیا۔جن لوگوں کو اس مقدمہ کی خبر تھی اُن پر پوشیدہ نہیں کہ مخالفوں نے میرے پر الزام قائم کرنے کے لئے کچھ کم کوشش نہیں کی تھی بلکہ مخالف گروہ نے ناخنوں تک زور لگایا تھا۔اور افسر مذکور نے میرے مخالف عدالت میں بڑے زور سے شہادت دی تھی لیکن جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے قبل اس کے جو یہ مقدمہ دائر ہو مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے الہام حمل ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء۔(عرفانی)