حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 180 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 180

حیات احمد ۱۸۰ جلد پنجم حصہ اوّل میرا دل اس کی تعریف سے پھر دوبارہ بھر گیا اور پھر میں پہلی طرح وجد میں آکر سجدہ میں گر پڑا۔اور ہر وقت یہ تصور میرے دل کو خدا تعالیٰ کے آستانہ پر یہ کہتے ہوئے گراتا تھا کہ یا الہی! تیری کیسی بلندشان ہے تیرے کیسے عجیب کام ہیں کہ تو نے ایک بے جان پتھر کو بھینس بنا دیا۔اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں جن سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔اور نہ صرف یہی بلکہ اس کے دودھ کی بھی امید ہے۔قدرت کی باتیں ہیں کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا۔میں سجدہ میں ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی۔قریباً اُس وقت رات کے چار بج چکے تھے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ وہ ظالم طبع مخالف جو میرے پر خلاف واقعہ اور سراسر جھوٹ باتیں بنا کر گورنمنٹ تک پہنچاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خواب میں ایک پتھر کو بھینس بنا دیا اور اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں اسی طرح انجام کار وہ میری نسبت حکام کو بصیرت اور بینائی عطا کرے گا اور وہ اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔“ (حقیقۃ المہدی صفحہ ۱۰، ۱ اروحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۳ تا ۴۴۵ ) اس کشف کی حضرت نے اپنے معمول کے موافق بعض مخلص احباب کو بھی قبل از وقت اطلاع دی چنانچہ مکرم حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کو ۵ فروری ۱۸۹۹ء کو ایک حسب ذیل خط لکھا۔اب فوجداری مقدمہ کی تاریخ ۱۴ فروری ۱۸۹۹ء ہوگئی ہے اور اصل بات یہ ہے حاشیہ۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ (جو پولیس نے مسٹرڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں کیا تھا۔مرتب ) کے متعلق یہ خواب ہے کیونکہ پتھر یا لکڑی سے وہ منافق حاکم مراد ہے جس کا ارادہ یہ ہے کہ بدی پہنچا وے اور جس کی آنکھیں بند ہیں پھر بھینس بن جانا بڑی بڑی آنکھیں ہو جانا، اس کی یہ تعبیر معلوم ہوتی ہے کہ یکدفعہ ایسے امور پیدا ہو جائیں جن سے حاکم کی آنکھیں کھل جائیں۔از مکتوب مورخه ۵ فروری ۱۸۹۹ء بنام چوہدری رستم علی صاحب مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۶۳۷، ۶۳۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)