حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 179 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 179

حیات احمد ۱۷۹ جلد پنجم حصہ اوّل اور عام طور پر لوگ یہ کہ رہے تھے کہ پیشگوئی اپنے معنوں میں ٹھیک پوری ہوئی اس مقصد کے لئے کہ تا اللہ تعالیٰ کے اس زبر دست نشان کی پوری حقیقت سمجھ میں آجاوے میں اسے حقیقۃ المہدی سے درج کرتا ہوں۔جو قبل از فیصلہ شائع کر دی گئی۔۔مجھے ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ جمعہ کی رات میں جس میں انتشار روحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا۔اور میرے خیال میں تھا کہ لیلتہ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی سے مینہ برس رہا تھا ایک رویا ہوا۔یہ رویا ان کے لئے ہے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھے درخواست کی ہے کہ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو تو اُس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو تیرے سر پر ہے بھینس بن جائے۔تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے جس کو کبھی میں پتھر اور کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں ، تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کو زمین پر پھینک دیا پھر بعد میں اس کے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ اِس پتھر کو بھینس بنا دیا جائے۔اور میں اس دعا میں محو ہو گیا۔جب بعد اس کے میں نے سراٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا۔سب سے پہلے میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی۔اس کی بڑی روشن اور لمبی آنکھیں تھیں۔تب میں یہ دیکھ کر کہ خدا نے پتھر کو جس کی آنکھیں نہیں تھیں ایسی خوبصورت بھینس بنا دیا جس کی ایسی لمبی اور روشن آنکھیں ہیں اور خوبصورت اور مفید جاندار ہے۔خدا کی قدرت کو یاد کر کے وجد میں آگیا اور بلا توقف سجدہ میں گرا اور میں سجدہ میں بلند آواز سے خدا تعالیٰ کی بزرگی کا ان الفاظ سے اقرار کرتا تھا رَبَّيَ الْأَعْلَى رَبِّيَ الأغلى اور اس قد را ونچی آواز تھی کہ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ آواز دور دور جاتی تھی۔تب میں نے ایک عورت سے جو میرے پاس کھڑی تھی جس کا نام بھانو تھا اور غالبا اس دعا کی اس نے درخواست کی تھی یہ کہا کہ دیکھ ہمارا خدا کیسا قادر خدا ہے جس نے پتھر کو بھینس بنا کر آنکھیں عطا کیں اور میں یہ اس کو کہہ رہا تھا کہ پھر یکدفعہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصوّر سے میرے دل نے جوش مارا اور