حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 156
حیات احمد ۱۵۶ جلد پنجم حصہ اول کوان باتوں سے کیا۔خود زمانہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ حق پر کون ہے نفاق اور مداہنت سے آدمی کامیاب نہیں ہوسکتا (افسر پولیس یہ فتوی مکمل چھپ جاوے تو مجھے ضرور بھیج دیا جاوے۔(ایڈیٹر ) بہت بہتر اس کے بعد ہم افسر مذکور سے رخصت ہو کر آگئے اور مولوی صاحب سے ان کا انٹر ڈیوس کرایا اور پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا گاڑی بھی آ پہنچی تھی ان عمائد اور مقامی حکام سے جن سے کہ مولا نا مولوی نورالدین صاحب نے گفتگو کی تھی محمد حسین نے بھی با ایں خیال کہ مبادہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اس کو کسی نے پوچھا نہیں ان سے گفتگو کی اور یوں کہا کہ اس نے ۱۰۲ علماء اسلام اور سجادہ نشینوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا مگر انہوں نے قسم نہ کھائی نہیں تو ان کا بھی فیصلہ کر دیتا۔میں نے پستول کے لئے درخواست دی ہے اور جس روز لاٹ صاحب گورداسپور میں تھے میں یہاں آیا تھا اور درخواست دے گیا تھا کمشنر صاحب سے بھی اس لئے ملا تھا کیونکہ میں پھرتارہتا ہوں کبھی لاہور، کبھی بٹالہ کبھی لودھیا نہ کبھی شملہ، اس لئے کل پنجاب کے لئے اگر لائسنس لینا ہو تو صاحب کمشنر سے درخواست کی جاتی ہے الخ۔ان عمائد اور حکام میں سے ایک نے جو پولیس کے عہدہ دار تھے محمد حسین سے کہا کہ ہاں میں نے آپ کو دیکھا تھا جب آپ کمشنر سے ملے تھے۔محمد حسین نے کہا۔ہاں !!! ( عہدہ دار پولیس) کیا آپ کے بھی مرید ہیں؟ ( محمد حسین ) یہ سلسلہ تو ان کا ہے میرے مرید نہیں۔میں تو واعظ اسلام ہوں اور اسی لئے پھرتا رہتا ہوں۔چونکہ ہم بھی اسی مجمع میں تھے۔گو محمد حسین نے جھینپتے اور جھجکتے ہوئے یہ لفظ نکالا مگر کہا کہ میں واعظ اسلام ہوں اس پر ہم نے نوٹ بک نکال کر اس فقرہ کو نوٹ کیا تو عہدہ دار مذکور نے جو ہم سے واقف نہ تھا کہا۔کیا نوٹ کیا (ایک شخص) یہ اخبار کے ایڈیٹر ہیں۔ایڈیٹروں کا یہی کام ہے۔(عہدہ دار پولیس) آپ کا کونسا اخبار ہے اور کہاں سے نکلتا ہے ( ہم ) اخبار الحكم “ جو قادیان سے نکلتا ہے اس اخبار کے ساتھ مرزا صاحب کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں۔نہ وہ منیجر ہیں۔نہ ایڈیٹر۔نہ مالک یہ اخبار پہلے امرتسر سے نکلتا تھا اور میں عرصہ سے جرنلسٹک لائین (اخبار نویسی کے سلسلہ ) میں کام کرتا ہوں۔محمد حسین مجھے خوب جانتا ہے۔( عہدہ دار پولیس ) کیا یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب کا پیری مریدی کا سلسلہ ہے؟ (ہم ) بیشک ! یہ بیچی ہے۔مرزا صاحب کے مرید ہیں مگر وہ ایسے