حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 155
حیات احمد ۱۵۵ جلد پنجم حصہ اول شد ومد سے ادا کیا گیا اس پر جناب مرزا صاحب نے فی الفور بذریعہ اشتہار قواعد نحو کے اعتبار سے اور اہل زبان کے کلام سے کہ لی جو اتعجب کا صلہ ہے فصیح ہے۔من فصیح نہیں۔چنانچہ حماسہ مشہور شاعر کے پانچ شعر اور نحو کی کتابوں کی مثالوں سے اور خود رسول اللہ ﷺ کی پہلی حدیث اسلام سے ثابت کیا۔اور ایک مبسوط اشتہار فوری شامت کے عنوان سے شائع کیا اور ثابت کیا کہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اب آپ خود خیال فرما دیں کہ کیا یہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا ہے یا نہیں؟ (افسر پولیس) ہاں ہے۔(ایڈیٹر ) پھر اس شخص نے سب سے بڑا ز دور مرزا صاحب کے فتویٰ کفر کی تیاری میں لگایا تھا۔چنانچہ شمالی ہندوستان میں پھرتا رہا۔اور فتویٰ کفر کو تیار کرایا گو غیر مقلدین پر پہلے سے کفر کا فتویٰ تھا مگر اب اس رنگ میں بھی اس کو ذلت پہنچتی تھی چنانچہ محمد حسین کی ایک انگریزی درخواست جو ۱۴ را کتوبر ۱۸۹۷ء کو اس نے وکٹوریہ پریس لاہور میں طبع کرائی کسی طرح مسلمانوں کو مل گئی جس میں گورنمنٹ کے سامنے اپنی خدمات کا اظہار کیا ہے اور اپنے رسالہ کے حوالہ جات دیئے ہیں منجملہ اور باتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ مہدی کے آنے کے خیال کو غلط ثابت کیا ہے۔لفظ اور ہوں گے مطلب یہی ہے ) حالانکہ اپنے آپ کو طبقہ اہل حدیث کا سرگروہ بتلاتا ہے اور ایڈوکیٹ کہلاتا ہے اور اہل حدیث اس بات کو صحیح نہیں سمجھتے وہ خلیفہ مہدی کے قائل ہیں کہ وہ آئے گا۔بلکہ اسی بناء پر مرزا صاحب پر کفر کا فتویٰ دیا گیا القصہ وہ تحریر مرزا صاحب کے پاس پہنچی جس پر انہوں نے استفسار طیار کیا اور ان عالموں سے ہی فتویٰ حاصل کیا جنہوں نے مرزا صاحب کو کا فر ٹھہرایا تھا انہوں نے اس کے حق میں بھی وہی فیصلہ دیا چنا نچہ وہ فتویٰ یہ ہے (فتوی دکھایا گیا) یہاں تک کہ آپ دیکھتے ہیں نذیر حسین اس کا استاد اور شیخ الکل کہلاتا ہے آپ دیکھئے اس کے دستخط بھی موجود ہیں۔اس وقت سے یہ پیشگوئی بالکل پوری ہو گئی یہ بات گورنمنٹ خود سمجھ لے گی کہ اس شخص کا وجود کیسا ہے ایک طرف تو مہدی بننے والے کو کافر ٹھہراتا ہے اور ان مولویوں اور لوگوں کا امام اور سرگروہ بنتا ہے جو مہدی کے آنے کے منتظر ہیں کہ وہ آکر لڑائیاں کرے گا۔دوسری (طرف) گورنمنٹ کو چلاتا ہے کہ میں نے اس عقیدہ کو باطل ثابت کیا ہے یہ کیسی خطرناک بات ہے اور ہم