حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 157 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 157

حیات احمد ۱۵۷ جلد پنجم حصہ اول واعظ اسلام نہیں جو دہ بدہ مارے مارے پھریں (اس پر ایک فرمائشی قہقہہ لگا ) اسی اثناء میں کوئی امرتسری جو محمدحسین کا رفیق ہے۔بولا ادھو! یہ ضرورت کے لئے ہے۔مرزا صاحب کو جب گھر بیٹھے سب کچھ مل جاوے ان کو باہر نکلنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم نے کہا یہی تو خدا کا فضل ہے پھر اسی سلسلہ میں ہم نے کہا کہ مرزا صاحب کے مرید کوئی معمولی آدمی نہیں بڑے بڑے عالم ، وکیل تعلیم یافتہ ایم۔اے۔بی۔اے، ڈاکٹر ، گورنمنٹ عالیہ کے معتمد عہدہ دار، اکسٹرا اسٹنٹ تحصیلدار وغیرہ اور بڑے بڑے رئیس ہیں۔ابھی ہم یہ تقریر کر ہی رہے تھے کہ گاڑی نے روانگی کا وسل دیا اور ہم دوڑ کر سوار ہو گئے۔مقدمہ کی دوسری پیشی ۱۱/ جنوری ۱۸۹۹ء کے بعد مقدمہ ۲۸ /جنوری ۱۸۹۹ء پر ملتوی ہوا اور اس تاریخ کے لئے دھار یوال مقرر ہوا۔دھار یوال امرتسر پٹھان کوٹ ریلوے لائن پر ایک سٹیشن ہے جہاں کپڑے کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہے اور اس کی وجہ سے ہی وہ بہت مشہور ہے۔حضرت اقدس نے پسند فرمایا کہ ایک روز پیشتر ہی سے چلے جاویں آپ نے تو قیام قریب کے ایک گاؤں میں تجویز کیا تھا مگر کھنڈہ جو گو ایک چھوٹا سا گاؤں ہے مگر وہ ایک مشہور سکھ جاگیر دار کا ہیڈ کوارٹر تھا وہ خود تو مر چکا تھا مگر اس کی رانی سردار نی اشیر کور نے اپنے مختار عام کو حضرت کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ آپ کا آنا تو میرے لئے میرے خسر سردار صاحب کا آنا ہے۔آپ میرے گھر پر تشریف لے آویں پرانے تعلقات خاندانی کی بناء پر حضرت نے اس کی دعوت کو رد نہ کیا اور اپنے خدام کو لے کر کھنڈہ آگئے۔رانی سردارنی نے نہایت اخلاص اور کشادہ دلی سے قافلہ کی دعوت کی ، رات وہاں قیام رہا اور صبح کو حضرت مع جماعت دھار یوال پہنچ گئے۔یہ جمعہ کا دن تھا اور احباب کثیر تعداد میں کپورتھلہ ،امرت سر، لا ہور اور جہلم وغیرہ سے پہلے ہی آچکے تھے اور ضلع گورداسپور کے احباب تو قریب ہی تھے بہت بڑا مجمع تھا حضرت اقدس کے مقدمہ کی وجہ سے بھی بالخصوص بڑا مجمع ہو گیا تھا۔اس کی وجہ سے دھار یوال کے کارخانہ میں بھی