حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 154 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 154

حیات احمد ۱۵۴ جلد پنجم حصہ اوّل اوران کے دوستوں کی ازالہ حیثیت عرفی تک پہنچے۔چونکہ اوپر سے کوئی کارروائی نہ تھی۔اس لئے اور لوگوں کو شامل کر کے پھکر، بازی کو حد تک پہنچایا اور منخش حملے کئے گئے قوم کو تو اس لئے بھڑ کا یا کہ یہ شخص مہدی اور مسیح ہونے کا مدعی ہے اور کسی خونی مہدی کا منکر ہے اور اس طرح پر ایک فتوی تیار کر ایا اس میں لکھا کہ حضرت مرزا صاحب واجب القتل ہیں اور ان کے مال و اسباب اور ان کی بیویاں چھین لی جاویں وغیر وغیرہ۔اب آپ ہی خیال فرما دیں کہ اس سے اصل غرض کیا تھی۔ادھر گورنمنٹ کو باوصفیکہ خود مسفر تھا کہ یہ شخص گورنمنٹ کا وفادار اور عقیدت کیش خاندان کا ممبر ہے“ یہ بتلایا کہ وہ باغی ہے یا کیا کچھ؟ ان ساری اذیتوں اور تکلیفوں پر بھی صبر کیا گیا آخر میری معرفت ہمارے دوستوں نے چاہا کہ مرزا صاحب سے کہا جاوے کہ مباہلہ (جو مسلمانوں کے نزدیک حق و باطل کا الہی فیصلہ ہے اور جو ایک قسم کی دعا ہے ) محمد حسین سے کریں۔مرزا صاحب نے اپنے دوستوں کی اس درخواست کو منظور کیا اور فرمایا کہ محمد حسین سے منوا لو ہم تیار ہیں۔غرض محمد حسین کو خطوط لکھے گئے اور بذریعہ اخبار اطلاع دی گئی۔آٹھ ہزار روپیہ تک بچے کے لئے انعام تجویز کیا مگر کوئی جواب نہ آیا بلکہ ایک گندی گالیوں سے بھرا ہوا اشتہار۔مرزا صاحب اگر چاہتے تو استغاثہ کر کے عدالت سے فیصلہ چاہتے مگر انہوں نے خدا سے فیصلہ چاہا اور دعا کی کہ اے اللہ ! جھوٹے کو ذلیل کر اور اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے ذلیل کرے وغیرہ وغیرہ تو اس پر آپ کو الہام ہوا کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا یعنی ظالم نے مظلوم کو جس قسم کی بدی پہنچائی ہے اُسی قسم کی ذلت پہنچے گی غرض یہ لفظ صاف ہیں سب سے اول محمد حسین نے مرزا صاحب کی تذلیل یوں کی تھی کہ یہ شخص جاہل ہے اور علوم عربیہ سے ناواقف ہے گو اس کے بعد مرزا صاحب نے متعدد کتابیں نظم و نثر عربی میں لکھیں مگر ان الہامات میں اَ تَعْجَبُ لَا مُرِی بھی ایک الہام تھا آپ جانتے ہیں کہ ایک عالم آدمی جو اپنے علم وفضل پر نازاں اور غمزہ ہو اگر ایسی غلطی کھائے جو ایک معمولی طالب علم بھی نہ کر سکے تو اس کی کتنی بڑی ذلت ہے اس پر افسر موصوف نے فرمایا بالکل ٹھیک ہے ہم نے اس پر کہا اَ تَعْجَبُ لامری کا الہام جب شائع ہوا تو محمد حسین نے یہ اعتراض کیا کہ دیکھ خدا کا الہام بھی غلط ہوتا ہے اَتَعْجَبُ مِنْ أَمْرِی چاہیے اور اس غلطی کو بڑی