حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 142
حیات احمد ۱۴۲ جلد پنجم حصہ اول ہوں گے اور اس میں جو اس نے دعا کی اور جو اس کا جواب بذریعہ الہام کے معلوم ہوا اردو و عربی میں تحریر کئے ہیں۔اس اشتہار کے جاری ہونے پر مولوی محمد حسین ساکن بٹالہ کو سخت اشتعال اور خوف پیدا ہو گیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اشتہارا اپنی سابقہ عادت کے بموجب اس کی نقصان رسانی کا انتظام میعاد مقررہ کے اندر کر کے جاری کیا ہے اور اس غرض سے مولوی محمد حسین مذکور نے ایک چھری تیز دھار ساخت بھیرہ ضلع شاہ پور خریدی ہے اور ہر وقت اپنے پاس بغرض حفاظت خود رکھتا ہے اور عام طور پر چھری مذکور لوگوں کو دکھلاتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے لیکھرام کی طرح میری ہلاکت کا انتظام کر کے اشتہار جاری کیا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ اس پیشگوئی کی صداقت کے واسطے وہ مجھے قتل کرائے گا اس لئے ، واسطے اپنی حفاظت اور مقابلہ دشمن کے چھری ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہوں اور دونوں فریق میرے علاقہ میں آباد ہیں اور ان کے مریدوں اور معتقدوں کی بڑی بھاری جماعت ہے جس میں ہر طرح کے لوگ تیز مزاج وغیرہ شامل ہیں اب صورت اس معاملہ کی بدانست کمترین یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ زیادہ قتل مقتضی نہیں ہے ضرور سخت اندیشہ تنقض امن کا فریقین کی طرف سے ہے اور اشتہارات علاوہ دل شکن در رنج واشتعال آمیز کلمات فریقین کی طرف سے روز مرہ سے اور دیکھے جاتے ہیں اور ان کا چرچا عوام میں ہوکر ایک دوسرے فریق کی جماعت کی دل شکنی و اشتعال طبع کا باعث ہوتے ہیں حضور کو یاد ہوگا کہ جب مرزا غلام احمد مقدمه حفظ امن پادری ہنری کلارک صاحب بہادر امرت سر سے بری ہوا تھا تو جناب مسٹر ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر نے زبانی اس کو فہما لیش فرمائی تھی کہ برائے آئندہ ایسے اشتہارات یا پیشگوئی جس سے نقض امن کا اندیشہ ہو نہ دیا کرے۔کچھ عرصہ تک مرزا غلام احمد نے اس پر عمل کیا اور خاموشی رکھی اور پھر اُسی طرح اشتہار بازی شروع کر دی ہے جو موجب نقض امن کا ہے لہذا ر پورٹ اطلاعاً ارسال بحضور ہے اشتہارات و اخبارات لف ہیں جہاں اس کا ذکر درج ہے اُس پر نشان سُرخی سے دیا گیا ہے۔اگر پسند رائے حضور ہو تو معرفت انسپکٹر صاحب اس امر کی خفیہ دریافت فرما کر فریقین کی ضمانت و مچلکہ حفظ امن کا انتظام فرمایا جاوے۔تحریر یکم دسمبر ۱۸۹۸ء عرضی کمترین محد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ