حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 141 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 141

حیات احمد ۱۴۱ جلد پنجم حصہ اول جاری کرتے رہتے اور جوش مذہبی کے بہانہ سے ایسے اشتعال بخش الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے ان کے دیکھنے والا ان کی جماعت کے مریدان و معتقد آمادہ بفساد ہو سکتے ہیں ہر دو کے حالات سابق وقتا فوقت بذریعہ رپورٹ ہائے خاص گزارش بحضور ہوتی رہی ہیں دونوں نے یہ طریقہ محض اپنی نام آوری اور فائدہ ذاتی کے واسطے اختیار کیا ہوا ہے کہ ان کی عزت اور فریق مخالف کی ذلت ان کی جماعت میں پیدا ہواور ان کے واسطے علاوہ شہرت کے دنیاوی فائدہ پہنچے جیسے کہ اب تک منی آرڈر وغیرہ رقومات کثیر پہنچ رہی ہیں۔حال میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مولوی محمد حسین ساکن بٹالہ سے درخواست کی کہ وہ فیصلہ بحث مذہبی کا بذریعہ مباہلہ کرے۔(اسلام میں یہ طریق دعا کا واسطے فیصلہ منجانب اللہ کے ہے اور فریق کا ذب پر اس فیصلہ کی رو سے عذاب نازل ہوتا ہے ) مولوی محمد حسین نے مباہلہ تو منظور کیا مگر میعاد نازل ہونے عذاب کی بجائے ایک سال مقررہ مرزا غلام احمد کے تین روز کے اندر اندر مقرر کی اور مرزا غلام احمد کی طرف سے بصورت فتحیابی مولوی محمد حسین کو ۸۲۵ روپیہ انعام دیا جانا مقرر کیا گیا۔بجواب اس کے ایک شخص سید ابو الحسن تبتی وارد کوہ شملہ نجولی نے ایک اشتہار تاریخ ۳۱ /اکتوبر ۱۸۹۸ء کو دیا کہ بصورت فتحیابی مولوی محمد حسین بٹالہ کے تحریر کیا کہ مرزا غلام احمد کا منہ کالا کیا جاوے، اس کو ذلیل کیا جاوے اور اس روسیاہی کے بعد اس کو گدھے پر سوار کر کے کوچہ کوچہ ان چاروں شہروں میں پھرایا جاوے اور بجائے دینے انعام ۸۲۵ روپے کے صرف ۸۲۵ جوتے اُن کے سر پر لگائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔اور اس اشتہار پر مرزا محمد بخش لاہوری نے اپنی طرف سے کچھ نوٹ ایزاد کئے جو درج اشتہار منسلکہ ہیں اور اس پرنشان سرخی سے دیا گیا ہے۔اس اشتہار اور نوٹوں کی بابت مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت خیال کرتے ہیں کہ مولوی محمد حسین سکنہ بٹالہ نے بنام نہاد دوسرے شخص کی طرف سے یہ اشتہار دلایا ہے اور اب مرزا غلام احمد نے ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار جس کا عنوان یہ ہے کہ ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں۔برخلاف مولوی محمدحسین و ملا محمد بخش لاہوری وابوالحسن نیتی کے جاری کیا جس کا اخیر یہ ہے کہ مجھ کو الہام ہوا ہے کہ ۱۳ ماہ کے اندر یعنی ۱۵ر دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ء تک یہ تینوں اشخاص ذلیل اور رسوا