حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 140
حیات احمد ۱۴۰ جلد پنجم حصہ اول ایک نئے فتنہ کا آغاز میں نے شروع ہی میں ۱۸۹۸ء کے واقعات کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ اس سال میں مقدمات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔پہلے انکم ٹیکس کا مقدمہ چلایا گیا اور مخالفین کو یقین تھا کہ چونکہ یہ سرکار کے مفاد کا معاملہ ہے کامیابی ہوگی اور اس طرح پر مالی نقصان ہو گا مگر حضرت کے صدق نے حقیقت کو نمایاں کر دیا اور یہ مقدمہ خارج ہو گیا اس کے بعد سب وشتم کا سلسلہ جاری تھا اور حضرت اقدس اگر چاہتے تو بذریعہ عدالت ان دل آزار تحریروں پر سزا دلا سکتے تھے مگر آپ نے کبھی پسند نہ کیا کہ عدالت میں بطور مدعی پیش ہوں۔ہاں آپ کو عدالتوں میں بلایا گیا اس سب وشتم کے جواب میں آپ نے اللہ تعالیٰ پر فیصلہ کا مدار رکھا جیسا کہ پچھلے صفحوں میں آپ پڑھ آئے ہیں اس اشتہار کی اشاعت پر چاہیے تو یہ تھا کہ مولوی محمد حسین اور ان کے مؤیدین مقابلہ پر آکر اپنے تعلق باللہ اور تائید ربانی کا ثبوت دیتے مگر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اس لئے کہ نصرت الہی سے مردود تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے بٹالہ کی پولیس سے مل کر ایک نیا مقدمہ چلایا اور یہ حفظ امن کی ضمانت کا مقدمہ تھا۔پہلا تیر اس حملہ میں پہلا ی منشی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس تھانہ بٹالہ نے اپنی رپورٹ خاص کے ذریعہ چلایا ادھر یہ تیر تھے اور حضرت اقدس کے تو سهامُ اللَّیل ہی تھے میاں محمد بخش نے مندرجہ ذیل رپورٹ ۳ / دسمبر ۱۸۹۸ء کو پیش کی۔رپورٹ خاص تھا نہ بٹالہ جناب عالی! مرزا غلام احمد ساکن قادیان و مولوی محمد حسین ساکن بٹالہ کے باہم ایک عرصہ سے تکرار مذہبی چلا آتا ہے دونوں اپنی اپنی تائید اور مخالفت اور تکذیب میں تحریرات دیگر چھا پہ قلمی