حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 139 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 139

حیات احمد ۱۳۹ جلد پنجم حصہ اول سے مہریں یا دستخط کفر نامہ پر لگائے ہیں یا عام طور پر خواہ زید ہوخواہ عمرو جو شخص ایسا عقیدہ بر خلاف اہل سنت والجماعت کے رکھتا ہے اس پر کفر کی مہریں لگائی ہیں جیسا کہ مفہوم آیات قرآن مجید ہے اور ایسا عالم فتویٰ دینے کے لائق شرعاً ہے۔راقم خیر خواہ مؤمنین الْجَوَابِ وَهُوَ الْمُوَفَّقُ لِلصَّوَاب (۱) وہ استفتاء جس کا اس سوال میں ذکر کیا گیا ہے اور جواب چھپ کر مشہور ہو چکا ہے میرے سامنے بھی پیش ہوا تھا۔اس کا جواب میں نے مندرجہ ذیل لفظوں میں دیا تھا۔امام مہدی علیه و عَلَى آبَائِهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلام کا قرب قیامت میں ظہور فرمانا اور دنیا کو عدل وانصاف سے پُر کرنا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اور جمہور امت نے اسے تسلیم کیا ہے اس امام موصوف کے تشریف لانے کا انکار صریح ضلالت اور مسلک اہل سنت و الجماعت سے انحراف کرنا ہے“۔میں نے اس جواب دینے میں کسی قسم کا دھوکا اور فریب نہیں کھایا ہے اور میرے نزدیک اس وقت بھی استفتائے مذکور کا یہی جواب ہے اور میں اس شخص کو جس کا استفتاء مذکور میں ذکر ہے اس وقت بھی مسلک اہل سنت والجماعت سے منحرف جانتا ہوں۔خواہ وہ زید ہو یا بکر فقط مفتی محمد عبد اللہ عفا الخ ( ٹونکی پروفیسر اور مینٹل کالج لاہورو پریذیڈنٹ انجمن حمایت اسلام لاہور وسیکرٹری انجمن مستشار العلماء) (۲) جو استفتاء مطبوعہ مورخه ۲۹ / دسمبر ۱۸۹۸ء مطابق ۱۵ رشعبان ۱۳۱۶ھ معرفت ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں مثبت بمواہیر اور دستخط علماء امرت سر تھا میرے روبرو پیش ہوا۔اس کے اوپر میں نے یہ عبارت لکھی ہے۔علماء عظام کا جواب صحیح ہے۔بے شک شخص مذکور السوال ضال اور مُضِل ہے اور اہل سنت سے خارج ہے۔پس یہ جواب بشرط صدق سوال صحیح ہے۔مصداق علیہ اس کا خواہ زید ہو یا عمر کسی خاص آدمی پر فتویٰ نہیں ہے۔عام طور پر یہ عقیدہ اہل سنت کا لکھا گیا ہے اور اس میں کسی شخص کا کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہے۔فقیر غلام محمد الگوی عفاعنہ امام مسجد شاہی لا ہور۱۲ مورخہ ۲۰ / جنوری ۱۸۹۹ء تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۳۹ تا ۴۱۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۹۶،۲۹۵ طبع بار دوم )