حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 138
حیات احمد ۱۳۸ نقل فتویٰ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم السَّلَامُ عَلَيْكُمُ جلد پنجم حصہ اول ۱۵ ماہ شعبان المبارک ۱۳۱۶ھ کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے بوساطت اپنے مرید ڈاکٹر اسمعیل صاحب ملازم فوج ملک افریقہ کے ایک استفتاء عام موافق سنت علماء خلف وسلف جس میں کسی شخص کا نام نہیں تھا۔آپ صاحبان کی خدمت میں بڑے ادب سے پیش کیا۔اب اعادہ الفاظ استفتاء کی کچھ ضرورت نہیں۔صرف اگر کوئی شخص انکار امام مہدی موعود کرے اور عقید ہ اپنا تحریری ایک مقام بطور دستاویز دے کر اطمینان دلا دے کہ جو جو احادیث اسلام میں حق مہدی علیہ السلام لکھی گئی ہیں وہ سراسر جھوٹ اور لغو ہیں تو اس پر علماء کیا فتوی فرماتے ہیں۔سو علمائے نامدار پنجاب و ہندوستان نے اپنی اپنی فہم سے ایسے عقیدے والے کو جس کا ذکر استفتاء میں موجود ہے کافر، صال، خارج از اسلام وغیرہ اپنی اپنی مواہیر اور دستخط سے قرار دیا تھا۔چنانچہ وہ استفتاء چھپ کر عام طور پر شائع ہو چکا۔یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ تک بھی بھیجا گیا۔اب ایک مولوی عبدالحق نام نے جس کی مہر یا دستخط اُس کفر نامہ پر ثبت ہیں ، اپنے ہاتھوں کی تحریر پر سخت افسوس کھا کر بڑی حسرت اور غضب سے ایک اشتہار نکال کر مشتہر کیا ہے کہ فتویٰ دینے میں میں نے دھوکا کھایا ہے یعنی وہ فتویٰ زید کے بارے میں ہم نے دیا ہے نہ عمر و کے حق میں اور بے اختیار ہو کر اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے فتویٰ پیش کرنے والے اور کرانے والے پر بیجا الزام دعا اور فریب اور بد دیانتی بے ایمانی وغیرہ وغیرہ کا لگایا ہے۔وہ اس واسطے کہ بالواسطہ فتویٰ کیوں لیا گیا اور جس پر فتویٰ دینا ہے اُس کا نام کیوں نہیں لیا گیا۔لہذا آپ صاحبان کی خدمت شریف میں انصاف اور عدل کے خواہاں ہو کر التماس ہے کہ کیا آپ نے بھی اس مولوی موصوف کی طرح دھو کہ