حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 124
حیات احمد ۱۲۴ جلد پنجم حصہ اول میں لکھتا ہے کہ کوئی پیشگوئی اس شخص یعنی اس عاجز کی پوری نہیں ہوئی۔ہم اس کے سوا بجز اس کے کیا کہیں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔وہ یہ بھی کہتا ہے کہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اس کے جواب میں ہم بھی بجز لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین کچھ نہیں کہہ سکتے۔اصل تو یہ ہے کہ جب انسان کا دل بخل اور عناد سے سیاہ ہو جاتا ہے تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا اور سنتے ہوئے نہیں سنتا ، اس کے دل پر خدا کی مہر لگ جاتی ہے۔اس کے کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں۔یہ بات اب تک کس پر پوشیدہ ہے کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی شرطی تھی اور خدا کے الہام نے ظاہر کیا تھا کہ وہ رجوع الی الحق میں مرنے سے بچ جائے گا اور پھر آتھم نے اپنے افعال سے، اپنے اقوال سے، اپنی سراسیمگی سے، اپنے خوف سے، اپنے قسم نہ کھانے سے، اپنے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ ایام پیشگوئی میں اُس کا دل عیسائی مذہب پر قائم نہ رہا اور اسلام کی عظمت اس کے دل میں بیٹھ گئی اور یہ کچھ بعید نہ تھا کیونکہ وہ مسلمانوں کی اولا د تھا اور اسلام سے بعض اغراض کی وجہ سے مرتد ہوا تھا اسلامی چاشنی رکھتا تھا اسی وجہ سے اس کو پورے طور پر عیسائیوں کے عقیدہ سے اتفاق بھی نہیں تھا اور میری نسبت وہ ابتداء سے نیک ظن رکھتا تھا۔لہذا اس کا اسلامی پیشگوئی سے ڈرنا قرین قیاس تھا۔پھر جبکہ اس نے قسم کھا کر اپنی عیسائیت ثابت نہ کی اور نہ نالش کی اور چور کی طرح ڈرتا رہا اور عیسائیوں کی سخت تحریک سے بھی وہ اُن کا موں کے لئے آمادہ نہ ہوا تو کیا اس کی یہ حرکات ایسی نہ تھیں کہ اس سے یہ نتیجہ نکلے کہ وہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے ضرور ڈرتا رہا۔غافل زندگی کے لوگ تو نجومیوں کی پیشگوئیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ کہ ایسی پیشگوئی جو بڑے شد و مد سے کی گئی تھی جس کے سننے سے اسی وقت اُس کا رنگ زرد ہو گیا تھا۔جس کے ساتھ درصورت نہ پورے ہونے کے میں نے اپنے سزایاب ہونے کا وعدہ کیا تھا پس اُس کا رعب ایسے دلوں پر جود ینی سچائی سے بے بہرہ ہیں کیونکر نہ ہوتا؟ پھر جبکہ یہ بات قیاسی نہ رہی بلکہ خود آتھم نے اپنے خوف اور سراسیمگی اور دہشت زدہ ہونے کی حالت سے جس کو صدہا