حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 125
حیات احمد ۱۲۵ جلد پنجم حصہ اول لوگوں نے دیکھا اپنی اندرونی بے قراری اور اعتقادی حالت کے تغیر کو ظاہر کر دیا۔اور پھر بعد میعاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اس تغیر کی حالت کو اور بھی یقین تک پہنچایا۔اور پھر الہام الہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا۔تو کیا یہ تمام واقعات ایک منصف اور خدا ترس کے دل کو اس یقین سے نہیں بھرتے کہ وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر زندہ رہا اور پھر الہام الہی کی خبر کے موافق اخفائے شہادت کی وجہ سے مر گیا۔اب دیکھو تلاش کرو کہ آٹھم کہاں ہے؟ کیا وہ زندہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ کئی برس سے مر چکا۔مگر جس شخص کے ساتھ اس نے ڈاکٹر کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسر مقابلہ کیا تھا وہ تو اب تک زندہ موجود ہے۔جواب یہ مضمون لکھ رہا ہے۔اے حیا و شرم سے دور رہنے والو! ذرہ اس بات کو تو سوچو کہ وہ شہادت کے اخفا کے بعد کیوں جلد مر گیا؟ میں نے تو اس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر میں کاذب ہوں تو میں پہلے مروں گا ورنہ میں آتھم کی موت کو دیکھوں گا۔سو اگر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈھ کر لاؤ۔کہاں ہے وہ میری عمر کے قریب قریب تھا۔اور عرصہ تہیں برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔اگر خدا چاہتا تو وہ تمہیں برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا۔پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ انہیں دنوں میں جبکہ اس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔خدا ان دلوں پر لعنت کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔اور چونکہ یہ انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلم صریح تھا اس لئے اس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا کرنے سے یعنی پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی سے منکروں کو ذلیل اور رسوا کر دیا۔یہ پیشگوئی اس مرتبہ پر فوق العادت تھی کہ اس میں قبل از وقت یعنی پانچ برس پہلے بتلایا گیا تھا کہ لیکھر ام کس دن اور کس قسم کی موت سے