حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 123
حیات احمد ۱۲۳ جلد پنجم حصہ اول کی جاتی ہیں۔تو ایک حد تک وہ صبر کرتے اور اپنے آپ کو تھامے رہتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کی غیرت چاہتی ہے کہ ان کی تائید میں کوئی نشان دکھاوے تب یک دفعہ ان کا دل دکھتا اور ان کا سینہ مجروح ہوتا ہے۔تب وہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر تفرعات کے ساتھ گرتے ہیں اور ان کی دردمندانہ دعاؤں کا آسمان پر ایک صعبناک شور پڑتا ہے اور جس طرح بہت گرمی کے بعد آسمان پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بادل کے نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ جمع ہو کر ایک تہ بہ تہہ بادل پیدا ہوکر یکدفعہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا ہی مخلصین کے درد ناک تضرعات جو اپنے وقت پر ہوتے ہیں رحمت کے بادلوں کو اٹھاتے ہیں اور آخر وہ ایک نشان کی صورت میں زمین پر نازل ہوتے ہیں۔غرض جب کسی مرد صادق ولی اللہ پر کوئی ظلم انتہا تک پہنچ جائے تو سمجھنا چاہیے کہ اب کو ئی نشان ظاہر ہو گا یے ☆ ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است و مجھے افسوس سے اس جگہ یہ بھی لکھنا پڑا ہے کہ ہمارے مخالف نا انصافی اور دروغ گوئی اور کجروی سے باز نہیں آتے وہ خدا کی باتوں کی بڑی جرات سے تکذیب کرتے اور خدائے جلیل کے نشانوں کو جھٹلاتے ہیں۔مجھے امید تھی کہ میرے اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے بعد جو بمقابلہ شیخ محمد حسین بٹالوی اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کے لکھا گیا تھا، یہ لوگ خاموش رہتے کیوں کہ اشتہار میں صاف طور پر یہ لفظ تھے کہ ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ء تک اس بات کی میعاد مقرر ہوگئی ہے کہ جو شخص کا ذب ہو گا خدا اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا اور یہ ایک کھلا کھلا معیار صادق و کاذب کا تھا جو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے قائم کیا تھا اور چاہیے تھا کہ یہ لوگ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد چپ ہو جاتے اور ۱۵ / جنوری ۱۹۰۰ ء تک خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ زٹلی مذکور نے اپنے اشتہار ۲۰ نومبر ۱۸۹۸ء میں وہی گند پھر بھر دیا جو ہمیشہ اس کا خاصہ ہے اور سراسر جھوٹ سے کام لیا۔وہ اس اشتہار ہ ترجمہ۔ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے۔اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔