حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 115 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 115

حیات احمد ۱۱۵ جلد پنجم حصہ اوّل چنانچہ ان دنوں میں میرے بعض دوستوں نے کمال نرمی اور تہذیب سے شیخ صاحب موصوف سے یہ درخواست کی تھی کہ مسلمانوں میں آپ کے فتویٰ کفر کی وجہ سے روز بروز تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اور اب اس بات سے نومیدی گلی ہے کہ آپ مباحثات سے کسی بات کو مان لیں اور نہ ہم آپ کی بے ثبوت باتوں کو مان سکتے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ آپ مباہلہ کر کے تصفیہ کر لیں کیونکہ جب کسی طرح جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکے تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے جس کو مباہلہ کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اثر مباہلہ کے لئے اس طرف سے ایک سال کی شرط ہے اور یہ شرط الہام کی بناء پر ہے لیکن تاہم آپ کو اختیار ہے کہ اپنے مباہلہ کا اثر تین دن یا ایک دم ہی رہنے دیں کیونکہ مباہلہ دونوں جانب کی لعنت اور بددعا کا نام ہے۔آپ اپنے بددعا کے اثر کی مدت قرار دینے میں اختیار رکھتے ہیں۔ہماری بددعا کے اثر کا وقت ٹھہرانا آپ کا اختیار نہیں ہے۔یہ کام ہمارا ہے کہ ہم وقت ٹھہراو میں اس لئے آپ کو ضد نہیں کرنی چاہیے۔آپ اشاعۃ السنہ نمبر 11 جلدے میں تسلیم کر چکے ہیں کہ شخص ملہم کو جہاں تک شریعت کی سخت مخالفت پیدا نہ ہوا اپنے الہام کی متابعت ضروری ہے۔لہذا ایک سال کی شرط جو الہام کی بناء پر ہے اس وجہ سے رد نہیں ہوسکتی کہ حدیث میں ایک سال کی شرط بصراحت موجود نہیں۔کیوں کہ اوّل تو حدیث مباہلہ میں ایک سال کا لفظ موجود ہے اور اس سے انکار دیانت کے برخلاف ہے۔پھراگر فرض کے طور پر حدیث میں سال کا لفظ موجود بھی نہ ہوتا تو چونکہ حدیث میں ایسا لفظ بھی موجود نہیں جو سال کی شرط کو حرام اور ممنوع ٹھہراتی ہو اس لئے آپ ہی حرام اور نا جائز قرار دے دینا امانت سے بعید ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی عادت فوری عذاب تھا تو قرآن شریف میں یا تعلیم رسول اللہ علے میں اُس کی تصریح ہونی چاہیے تھی لیکن تصریح تو کیا بلکہ اس کے برخلاف عملدرآمد پایا گیا ہے۔دیکھو مکہ والوں کے عذاب کے لئے ایک برس کا وعدہ دیا گیا تھا اور یونس کی قوم کے عذاب کے لئے چالیس دن مقرر ہوئے تھے بلکہ خدا تعالیٰ