حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 116
حیات احمد 117 جلد پنجم حصہ اول کی کتابوں میں بعض عذابوں کی پیشگوئی صدہا برس کے وعدوں پر کی گئی ہے پھر خواہ نخواہ کچے اور بیہودہ بہانے کر کے اور سراسر بد دیانتی کو شیوہ ٹھہرا کر طریق فیصلہ سے گریز کرنا اُن علماء کا کام نہیں ہوسکتا جو دیانت اور امانت اور پر ہیز گاری کا دم مارتے ہوں۔اگر ب شخص در حقیقت مفتری اور جھوٹا ہے تو خواہ مباہلہ ایک سال کی شرط پر ہو خواہ دس سال کی پر شرط افتراء کرنے والا کبھی فتح یاب نہیں ہوسکتا۔ایک غرض نہایت افسوس کی بات ہے کی اس درخواست مباہلہ کو جو نہایت نیک نیتی سے کی گئی تھی شیخ محمد حسین نے قبول نہیں کیا اور یہ عذر کیا کہ تین دن تک مہلت اثر مباہلہ ہم قبول کر سکتے ہیں زیادہ نہیں کی حالانکہ حدیث شریف میں سال کا لفظ تو ہے مگر تین دن کا نام ونشان نہیں اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حدیث میں جیسا کہ تین دن کی کہیں تحدید نہیں ایسا ہی ایک سال کی بھی نہیں تا ہم ایک شخص جو الہام کا دعوی کر کے ایک سال کی شرط پیش کرتا ہے علماء امت کا حق ہے کہ اس پر حجت پوری کرنے کے لئے ایک سال ہی منظور کر لیں۔اس میں تو حمایت شریعت ہے تا مدعی کو آئندہ کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔”خدا لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے نبی اور میرے پر ایمان لانے والے غالب رہیں گے۔“ سوشیخ محمد حسین نے باوجود بانی ، تکفیر ہونے کے اس راہِ راست پر قدم مارنا نہیں چاہا اور بجائے اس کے کہ نیک نیتی سے مقابلہ کے میدان میں آتا یہ طریق اختیار کیا کہ ایک گندہ اور گالیوں سے پر اشتہار لکھ کرمحمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کے نام سے چھپوا دیا۔اس وقت وہ اشتہار میرے سامنے رکھا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے۔اور وہ دعا جو میں نے کی ہے۔یہ ہے کہ اے میرے ذوالجلال پر وردگار ! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور عجیب بات ہے کہ ایک طرف مباہلہ سے انکار اور پھر گالیاں دینے میں اصرار ہے۔منه