حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 114 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 114

حیات احمد ۱۱۴ جلد پنجم حصہ اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِيْنَ مِن ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں اور مبارک وہ جو خدا کے فیصلہ کو عزت کی نظر سے دیکھیں جن لوگوں نے شیخ محمدحسین صاحب بٹالوی کے چند سال کے پرچہ اشاعۃ السنه دیکھے ہوں گے وہ اگر چاہیں تو محض اللہ گواہی دے سکتے ہیں کہ شیخ صاحب موصوف نے اس راقم کی تحقیر اور تو ہین اور دُشنام دہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ایک وہ زمانہ تھا جو اُن کا پر چہ اشاعۃ السنہ گفتِ لِسان اور تقویٰ اور پر ہیز گاری کے طریق کا موئید تھا اور کفر کے ننانوے وجوہ کو ایک ایمان کی وجہ پائے جانے سے کالعدم قرار دیتا تھا اور آج وہی پر چہ ہے جو ایسے شخص کو کافر اور دجال قرار دے رہا ہے جو کلمہ طیبہ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مَحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کا قائل اور آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء سمجھتا اور تمام ارکانِ اسلام پر ایمان لاتا ہے اور اہل قبلہ میں سے ہے۔اور ان کلمات کو سن کر شیخ صاحب اور ان کے ہم زبان یہ جواب دیتے ہیں کہ تم لوگ دراصل کا فر اور منکر اسلام اور دہر یہ ہو۔صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنا اسلام ظاہر کرتے ہو۔گویا شیخ صاحب اور ان کے دوستوں نے ہمارے سینوں کو چاک کر کے دیکھ لیا ہے کہ ہمارے اندر کفر بھرا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کی تائید میں اپنے نشان بھی دکھلائے مگر وہ نشان بھی حقارت اور بے عزتی کی نظر سے دیکھے گئے اور کچھ بھی ان نشانوں سے شیخ محمد حسین اور اس کے ہم مشرب لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ سختی اور بد زبانی روز بروز بڑھتی گئی ل الاعراف : ۹۰ آمین