حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 81
حیات احمد ΔΙ نمونہ دعائے مستجاب روئے دلبر از طلب گاراں نمی دارد حجاب کے می درخشد در خور و می تابد اندر ماہتاب لیکن آں روئے حسین از غافلاں ماند نہاں ہے اشقی باید که بردارند از بهرش نقاب نقاب دامن پاکش ز نخوتها نمی آید بدست سے بیچ راہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم کے جان سلامت بایدت از خود روی با سربتاب تا کلامش فهم و عقل ناسزایاں کم رسد هر که از خود گم شود او يابد آن راه صواب مشکل قرآن نه از ابناءِ دُنیا حل شود ذوق آں مے داند آں مستے کہ نوشد آن شراب اے کہ آگاہی ندادندت نے انوار دَرُوں در حق ما هر چہ گوئی نیستی جائے عتاب جلد چهارم ترجمہ اشعار لے دلبر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔وہ سورج میں بھی چمکتا اور چاند میں بھی۔ے لیکن وہ حسین چہرہ غافلوں سے پوشیدہ ہے سچا عاشق چاہیے تا کہ اس کی خاطر نقاب اٹھائی جائے۔اُس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا اس کے لیے کوئی راہ سوائے درد اور بے قراری کے نہیں ہے۔اُس محبوب از لی کا راستہ بہت خطرناک ہے اگر تجھے جان کی سلامتی چاہیے تو خودروی کو ترک کر دے۔ے نا اہل لوگوں کی عقل اس کے کلام کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی جو خودی کا تارک ہو اُسی کو وہ صحیح راستہ ملتا ہے۔قرآن کو سمجھنے کا مسئلہ اہل دنیا سے حل نہیں ہو سکتا اُس شراب کا مزا وہی جانتا ہے جو اس شراب کو پیتا ہے۔ہے اے وہ شخص جسے باطنی انوار کی کچھ خبر نہیں تو جو کچھ بھی ہمارے حق میں کہے ناراضگی کا موجب نہیں۔