حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 82
حیات احمد ۸۲ از سر وعظ و نصیحت ایں سخن ها گفته ایم تا مگر میں مرہمے یہ گردد آں زخمے خراب دعا کن چاره آزار انکارِ دُعا از چوں علاج کے نئے وقت خمار و التهاب اے کہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست لے سوئے من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار زین اسرار قدرتہائے حق ہے قصہ کوتاہ کن ہیں از ما دُعائے مستجاب جلد چهارم اور ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں بھی سرسید احمد خاں مرحوم کے متعلق ایک ابتلا کی پیشگوئی تھی جو ان کے ایک معتبر اہلکار (غالباً بہاری لال نام تھا) کے ڈیڑھ لاکھ روپیہ نین کرنے سے پوری ہوئی اور اسی صدمہ سے اُن کی وفات ہوئی۔اس پیش گوئی کے پورے ہونے پر آپ نے ضروری سمجھا کہ سرسید احمد خاں صاحب مرحوم پر بھی اتمام حجت کر دیا جاوے اس لئے اس خصوص میں آپ نے ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو مندرجہ ذیل اشتہار شائع کیا۔ترجمہ اشعار ہم نے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر یہ باتیں کہی ہیں تا کہ وہ خراب زخم اس مرہم سے اچھا ہو جائے۔انکار دُعا کے مرض کا علاج دعا ہی سے کر جیسے خمار کے وقت شراب کا علاج شراب سے ہی کیا جاتا ہے۔ملے اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اگر دعاؤں میں اثر ہے تو دکھاؤ کہاں ہے، پس میری طرف دوڑتا کہ میں تجھے سورج کی طرح وہ اثر دکھاؤں۔الے خبر دار خدا کی قدرتوں کے بھیدوں کا انکار نہ کر بات ختم کر اور ہم سے دعائے مستجاب دیکھ لے۔