حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 80
حیات احمد ۸۰ جلد چهارم میں نے تمام واقعات کو تفصیلاً لکھ دیا ہے۔اور قارئین کرام بڑی آسانی سے اسلام کی اس عظیم الشان فتح کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اس وقت کی موجودہ دنیا کے سمجھدار اور غیر متعصب طبقہ نے تسلیم کیا کہ یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اس طرح پر پنڈت لیکھرام نے جس نشان کا اپنی ذات کے متعلق ۱۸۸۵ء میں مطالبہ کیا تھا پھر آریہ گزٹ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کھلی اجازت دی تھی کہ میری نسبت جو چاہو شائع کرو۔اور ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کی وہ پیش گوئی کی گئی جو ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو پوری ہوگئی اور اس کی مزید تحقیقات ، شہرت اور صداقت پر گنگا بشن اور مولوی محمد حسین نے خود قسم کھانے کا ادعا کر کے اس موت کے پیالہ کو ٹال دیا اور گنگا بشن کی تباہی اور بے کسی اور مولوی محمد حسین صاحب کی خانہ ویرانی پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔مگر یہ پیش گوئی متعدد نشانات کا مجموعہ ہوگئی۔سرسید کے متعلق پیش گوئی منجملہ ان کے جناب سرسید احمد خاں صاحب مرحوم کے لئے بھی ایسی پیش گوئی کو دعاءِ مستجاب کے نشان کے طور پر پیش کیا گیا۔سرسید احمد خاں صاحب نے ایک رسالہ الاستجابة والدعا لکھ کر شائع کیا تھا جس میں انہوں نے قبولیت دعا سے انکار کیا تھا اس رسالہ کے جواب میں حضرت نے برکات الدعا رسالہ لکھا اور اس کے ٹائیٹل پیج پر پنڈت لیکھرام کی پیش گوئی کے متعلق مزید انکشافات جو الہام کے ذریعہ ہوئے تھے شائع کئے اور اسی سلسلہ میں سرسید احمد خاں مرحوم کو خطاب کیا اور کتاب برکات الدعا کے ان صفحات ۲-۳-۴ کی طرف توجہ دلائی جن پر لیکھرام کے متعلق پیش گوئی کی وضاحت ہے اور بالآخرلکھا کہ