حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 79
حیات احمد ۷۹ جلد چهارم اور دس ہزار روپیہ تو اس صورت میں تاوان کی طرح لیا جائے گا کہ جب لاش دینے سے انکار کریں۔کیا خوب ہو کہ آریہ لوگ اس اپنے وفادار جان نثار گنگا بشن کو اس ناچیز امداد سے محروم نہ رکھیں۔کیا جان دینے سے کوئی اور نشان آریہ ہونے کا ہوگا۔روز کے جھگڑوں کے طے ہونے کے لئے یہ نہایت عمدہ تقریب پیدا ہوئی ہے۔اگر آریہ صاحبوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے دیا تو پھر آئندہ اُن کو حق نہیں ہوگا کہ اخباروں میں میری نسبت شائع کریں کہ یہی شخص لیکھرام کا قاتل ہے۔اور لالہ گنگا بشن یا درکھیں کہ اب بغیر اس طریق کے ان کے لئے کوئی چارہ نہیں ان کے لئے دس ہزار روپیہ ایک ادنی ہندو جمع کرا سکتا ہے۔اور قوم اگر چاہے تو دس لاکھ جمع کراسکتی ہے۔یہ فیصلہ ناطق ہے۔آریہ صاحبان صرف منہ سے مجھے لیکھرام کا قاتل نہ بتادیں۔اگر میں قاتل ہوں تو وہ عالم الغیب جس سے ان کو بھی انکار نہیں اس کا فیصلہ دیکھ لیں۔زیادہ کیا لکھا جائے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی یکم مئی ۹۷ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۲۱ تا ۲۷ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۹۵ تا ۹۹ طبع بار دوم ) بقیہ حاشیہ۔گنگا بشن کی لاش کی ضمانت کے لئے جمع کرا دیں اور باضابطہ سرکاری سند ہم کو دلا دیں۔گنگا بشن نے آپ لوگوں کے لئے تمام کاروبار اپنے برباد کئے۔اب صرف ایک جان باقی ہے وہ بھی آریہ دھرم پر قربان کرنے کے لئے ہتھیلی پر رکھے کھڑا ہے۔اگر ایسے مہاتما کا قدر نہ کرو تو پھر آپ لوگوں میں مردم شناسی کا مادہ ہی نہیں اور نیز اب اگر آپ نے اس قوم کے بہادر کی مدد نہ کی اور اس کا ساتھ نہ دیا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کا سبب بجز اس کے کچھ نہیں آپ لوگوں کے دلوں میں کامل یقین کے ساتھ یہ بات جم گئی ہے کہ لیکھرام صرف پیش گوئی کے اثر سے خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچا ہے اور وہی تجربہ آپ کو گنگا بشن کی مدد دینے سے روکتا ہے۔ورنہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فدائی قوم کی کیوں ہمدردی نہیں کی جاتی جس نے مذہب کے لئے اپنی معاش کو بھی تباہ کر لیا اور اپنی جان دینے کو بھی طیار ہے۔منہ