حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 71
حیات احمد جلد چهارم سلام کرنے کا واقعہ میرے سامنے کا ہے جس کو میں نے سیرت مسیح موعود حصہ دوم میں شائع کر دیا تھا۔اور جو اس طرح پر ہے اور یہی صحیح ہے کہ میں ایک عینی شاہد ہوں۔پنڈت لیکھرام کا واقعہ ایک دفعہ مسیح موعود فیروز پور سے قادیان کو آرہے تھے ان ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم فیروز پور میں مقیم تھے اور اس تقریب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں گئے ہوئے تھے۔خاکسار عرفانی کو (جو ان ایام میں محکمہ نہر میں امیدوار ضلعداری تھا اور رکھا نوالہ میں حافظ محمد یوسف ضلعدار کے ساتھ رہ کر کام سیکھتا تھا) بھی فیروز پور جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ جب وہاں سے واپس آئے تو میں رائے ونڈ تک ساتھ تھا۔وہاں آپ نے از راہ کرم فرمایا تم ملا زم تو ہو ہی نہیں چلو لا ہور تک چلو عصر کی نماز کا وقت تھا آپ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوئے۔اس وقت وہاں ایک چبوترہ بنا ہوا کرتا تھا۔مگر آج کل وہاں ایک پلیٹ فارم ہے۔میں پلیٹ فارم کی طرف گیا تو پنڈت لیکھرام آریہ مسافر جو اُن ایام میں پنڈت دیانند صاحب کی لائف لکھنے کے کام میں مصروف تھا جالندھر جانے کو تھا کیونکہ وہ وہاں ہی غالبا کام کرتا تھا۔مجھ سے اس نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔میں نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کا ذکر سنایا تو خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ بھاگا ہوا وہاں آیا جہاں حضرت اقدس وضو کر رہے تھے (میں اس نظارے کو اب بھی گویا دیکھ رہا ہوں۔عرفانی) اُس نے ہاتھ جوڑ کر آریوں کے طریق پر حضرت اقدس کو سلام کہا۔مگر حضرت نے یونہی آنکھ اٹھا کر سرسری طور پر دیکھا اور وضو کرنے میں مصروف رہے۔اس نے سمجھا کہ شاید سنا نہیں اس لئے اس نے پھر کہا حضرت بدستور اپنے استغراق میں رہے۔وہ کچھ دیر ٹھہر کر چلا گیا۔کسی نے کہا کہ لیکھر ام سلام کرتا تھا۔فرمایا اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی توہین کی ہے میرے ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس کا سلام لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر تو