حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 72 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 72

حیات احمد ۷۲ جلد چهارم حملے کرتا ہے اور مجھ کو سلام کرنے آیا ہے۔“ غرض آپ نے اظہار غیرت کیا اور پسند نہ کیا کہ وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہے میں اس کا سلام بھی لوں۔گنگا بشن کے متعلق جب گنگا بشن کے متعلق اشتہارات شائع ہو رہے تھے میں امرتسر میں ایڈیٹر تھا۔جب اس نے لاش کا مطالبہ کیا تو ابھی حضرت اقدس کا جواب شائع نہ ہوا تھا۔اتفاق سے مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب حضرت کے بعض کاموں کی تعمیل میں امرتسر آئے اور گفتگو کے دوران میں گنگا بشن کا معاملہ زیر بحث آیا۔میری طبیعت ہمیشہ سے آزاد رہی اور میں نے اپنی رائے کے اظہار میں کبھی تامل نہیں کیا اور اسی وجہ سے میں عمر بھر بعض اپنے دوستوں اور بزرگوں کا معتوب بھی ہو جاتا رہا۔لیکن آخر حقیقت کھل جاتی۔اس گفتگو میں میں نے کہا کہ ہم کو یقین ہے جو مقابلہ میں آئے گا مرے گا۔حضرت اقدس کو اس کی شرائط منظور کر لینی چاہئیں تا کہ فیصلہ ہو جاوے۔“ میرے اس بیان کو حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب نے (کسی بدنیتی سے نہیں ) ایسے طور پر بیان کیا جس سے یہ نتیجہ نکل سکتا تھا گویا میں نے حق کی مخالفت کی ہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ لاہور میں میرے ہم مکرم رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کا اظہار خیال کیا اور وہ مکرم حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحب نومسلم ( جو ان دنوں حمایت اسلام کی ڈسپنسری میں کام کرتے تھے ) نے قادیان آنے پر بیان کیا۔جس سے حضرت اقدس کی ناراضی پیدا ہونا لازمی تھا آپ نے ایک اشتہار میرے اور میرے عم محترم کے متعلق دینے کا خیال ظاہر کیا۔مگر مگرم خواجہ صاحب مغفور موجود تھے۔انہوں نے حضرت عم مکرم کی نیکی تقوی وطہارت کا زور دار الفاظ میں ذکر فرمایا اور میرے متعلق نو جوانی اور اخبار نویسی کی آزادی کی لہر وغیرہ کا ذکر کیا اور حضرت نے معاف فرما دیا۔مجھے جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو میں نے نہایت جوش سے ایک لمبا خط لکھا اور مطالبہ کیا