حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 70
حیات احمد جلد چهارم ہمارے اشتہار میں دس ہزار روپیہ کی کوئی شرط نہیں تھی ہم نے ان کی بات کو صرف اسی لحاظ سے مان لیا تھا کہ ان کے لئے یہ روپیہ ہماری پھانسی کی جگہ فتح کا نشان ہو۔سو وہ آریہ قوم کے نزدیک جو اصل مدعی اور لیکھرام کے وارث اور اُس کے لئے غیرت رکھتے ہیں اپنی رائے میں بچے ہیں تو ان سے لیکر دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں۔یا اُسی غیبی امداد والے شخص سے لے لیں جس نے بھاری امداد کا وعدہ فرمایا ہے۔یعنی جس کا ذکر انہوں نے صفحہ سات اشتہار میں کیا ہے۔اگر منظور نہیں تو آئندہ ان کو ہرگز جواب نہیں دیا جائے گا۔اور ان کے مقابل پر یہ ہمارا آخری اشتہار ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر میرزا غلام احمد قادیانی ۲۷ / ا پریل ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۹۹ تا ۱۰۲۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۹۲ تا ۹۴ طبع بار دوم ) اس اعلان کے بعد گنگا بشن صاحب ایسے خاموش ہوئے کہ گوئی مردہ اند ـ مگر اس جلد بازی اور اللہ تعالیٰ کے مامور کے مقابلہ میں نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کو محکمہ نے موقوف کر دیا۔اور ملا زمت سے الگ ہو کر پریشانیوں میں مبتلا ہو کر حضرت اقدس کی زندگی ہی میں یہ شخص فوت ہو گیا۔پنڈت لیکھرام اور گنگا بشن کے متعلق میرا ذاتی واقعہ پنڈت لیکھرام سے میری ملاقات ۹۲-۱۸۹۱ء میں بمقام لاہور ہوئی تھی۔وہ وچھو والی آریہ سماج میں لیکچر دیا کرتا تھا۔اور انار کلی بازار میں بھی شام کے وقت عموماً آکر عیسائیوں کی چیپل کے پاس کھڑا ہو کر تقریریں کرتا۔میں خود بھی سرشام ان اکھاڑوں میں شریک ہوتا۔اور مناسب موقعہ پر مباحثات اور تقریروں میں حصہ لیتا۔اور آریہ سماج کے سالانہ جلسوں میں دھرم چر چا کے ضمن میں بھی پنڈت لیکھرام سے سوال کرتا تھا۔اس طرح پر اُس سے گونہ بے تکلفی تھی۔حضرت اقدس کو