حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 67 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 67

حیات احمد 72 جلد چهارم اور کا غذات خزانہ میں یہ لکھوا دیا جائے کہ اگر ایک سال کے اندر گنگا بشن فوت ہو گیا اور اُس کی لاش ہمارے حوالے نہ کی گئی تو بعوض اس کے بطور قیمت لاش یا تاوان عدم حوالگی لاش دس ہزار روپیہ ہمارے حوالہ کر دیا جائے گا اور ایسے اقرار کی ایک نقل معہ دستخط عہدہ دار افسر خزانہ کے مجھے بھی ملنی چاہیے تا ثانی الحال مطالبہ روپیہ میں دقت نہ ہو۔اور واضح رہے کہ اگر گنگا بشن گریز کر جائے تو بجائے اس کے جو اور آریہ صاحب مقابلہ پر آویں تو ان کو بھی پابندی اس شرط کی اور ایسا ہی دوسری شرائط کی حسب تصریحات مذکورہ بالا ضروری ہوگی۔اور اگر ہماری لاش پر گنگا بشن صاحب قادر نہ ہوسکیں تو وہ دس ہزار روپیہ جو ہماری طرف سے جمع ہوگا وہ گنگا بشن صاحب کے لئے بطور نشان فتح سمجھا جائے گا۔اب جانبین کی شرطیں کمال تک پہنچ گئیں۔آئندہ کسی فریق کو جائز نہیں ہوگا جو ان شرائط سے کم یا زیادہ کرے ورنہ اُس کی گریز اور شکست متصور ہوگی۔اور آئندہ ایسے شخص سے ہرگز خطاب نہیں کیا جائے گا۔منہ تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۸۲ تا ۹۲ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۸۰ تا ۶ ۸ طبع بار دوم ) اس کھلے کھلے اعلان کے بعد چاہیے تھا کہ گنگا بشن صاحب مقابلہ کے لئے آتے مگر اس نے پھر حیلہ سازی سے کام لینا چاہا اور ایک اشتہار جاری کیا جس پر حضرت اقدس نے آخری اعلان کیا جو یہ ہے۔لالہ گنگا بشن بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ لالہ گنگا بشن صاحب کا اشتہار جس کا عنوان یہ ہے ”میرزا غلام احمد صاحب کی پھانسی کی خواہش آج بذریعہ رجسٹری مجھ کو پہنچا۔تاریخ کوئی نہیں وہ اپنے اشتہار کے صفحہ ۲ میں لکھتے ہیں کہ ”میں اپنی لاش دینی نہیں چاہتا۔اور پھر صفحہ ۴ میں لکھا ہے کہ